صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 178
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۷۸ ۳۴- كتاب البيوع قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعِ انہوں نے کہا کہ موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَن نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجَ حضرت ابن عمرؓ نے ؟ رت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فَأَصَابَهُمُ الْمَطَرُ آپ نے فرمایا تین آدمی چلے جا رہے تھے تو انہیں بارش نے آلیا اور وہ پہاڑ { کی ایک غار میں داخ غار میں داخل ہو گئے تو فَدَخَلُوْا فِي غَارِ } فِي جَبَلِ ایک پتھر اس غار کے دہانے پر آگرا۔ آپ نے فرمایا: فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ قَالَ فَقَالَ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم نے (اپنی زندگی بَعْضُهُمْ لِبَعْضِ ادْعُوا اللَّهَ بِأَفْضَلِ میں جو اچھے سے اچھا عمل کیا ہو، اس کو وسیلہ بنا کر عَمَلٍ عَمِلْتُمُوهُ فَقَالَ أَحَدُهُمُ اللَّهُمَّ اللہ تعالیٰ سے دُعا کرو۔ تب ان میں سے ایک نے کہا: إِنِّي كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ اے میرے اللہ ! میرے بوڑھے ماں باپ تھے اور میں فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَرْعَى ثُمَّ أَجِيءُ باہر اتا، بکریاں چرایا کرتا۔ پھر جب میں آتا تھا تو دودھ دوہتا اور دودھ پہلے اپنے ماں باپ کے پاس لاتا اور وہ فَأَحْلُبُ فَأَجِيْءُ بِالْحِلَابِ فَآتِي بِهِ پیتے ۔ پھر میں بچوں اور گھر والوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا أَبَوَيَّ فَيَشْرَبَانِ ثُمَّ أَسْقِي الصِّبْيَةَ اور ایک رات ایسا ہوا کہ مجھے دیر ہو گئی ۔ ؟ دیر ہوئی۔ جب آیا تو کیا وَأَهْلِيْ وَامْرَأَتِي فَاحْتَبَسْتُ لَيْلَةً دیکھتا ہوں، وہ دونوں سوئے ہوئے۔ ئے ہیں۔ اس نے کہا: فَجِئْتُ فَإِذَا هُمَا نَائِمَانِ قَالَ فَكَرِهْتُ یہ میں نے گوارا نہ کیا کہ ان دونوں کو جگاؤں اور حالت أَنْ أُوْقِظَهُمَا وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ یہ تھی کہ بچے میرے پاؤں کے پاس بھوک سے بلک رِجْلَيَّ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَابَهُمَا رہے تھے۔ میں اسی حال میں کھڑا رہا اور وہ دونوں حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ ہوتے رہے یہاں تک کہ صبح: لہ صبح ہوگئی ۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا جوئی کی خاطر کیا تھا تو أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ (اس پیر کو اتناہم سے ہٹادے کہ ہم اس سے آسمان کو فَاخْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ دیکھ لیں۔ آپ نے فرمایا: تب ان کے سامنے سے (غار قَالَ فَفُرِجَ عَنْهُمْ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ کا منہ کھل گیا اور دوسرے نے کہا: اے اللہ! تو جانتا كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ أُحِبُّ امْرَأَةً مِنْ ہے کہ میں اپنی ایک چچا زاد بہن سے محبت رکھتا تھا، اتنی حمد الفاظ ” في غار فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء۴ حاشیہ صفحہ ۵۱۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔