صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 179
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۷۹ ۳۴- كتاب البيوع تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ تو ایک سو دینارا سے بَنَاتِ عَمِّي كَأَشَدِ مَا يُحِبُّ الرَّجُلُ شدید محبت جیسے کوئی مرد عورت سے رکھ سکتا ہے۔ ( جب النِّسَاءَ فَقَالَتْ لَا تَنَالُ ذَلِكَ مِنْهَا حَتَّی ایک دن میں نے اس لڑکی سے اپنی خواہش کا اظہار کیا ) تو اُس نے کہا کہ تو اپنی مطلوبہ غرض اس سے اس وقت تُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ فَسَعَيْتُ فِيْهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا فَلَمَّا فَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا نہ دے۔ تب میں نے اس کیلئے کوشش کی یہاں تک کہ قَالَتِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَقُضَ الْخَاتَمَ إِلَّا میں نے مطلوبہ رقم جمع کرلی۔ پھر جب میں اس کی دونوں بِحَقِّهِ فَقُمْتُ وَتَرَكْتُهَا فَإِنْ كُنْتَ ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ بولی: اللہ سے ڈر اور اس تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ مبر کو جائز طریق کے بغیر نہ توڑ ۔ تب میں کھڑا ہو گیا اور فَاخْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً قَالَ فَفَرَجَ عَنْهُمُ اسے چھوڑ دیا۔ پس اگر تو جانتا ہے کہ میں نے تیری اتھا تو ہمارے نکلنے کا کچھ راستہ الثلُثَيْنِ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ رضا جولی کیلئے کام کیا تھاتا بنا دے۔ آپ نے فرمایا: چنانچہ دو تہائی حصہ غار کا کھل تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيْرًا بِفَرَقٍ مِنْ گیا۔ تیرے۔ ۔ تیسرے نے کہا: اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ذُرَةٍ فَأَعْطَيْتُهُ وَأَبَى ذَلِكَ أَنْ يَأْخُذَ ایک مزدور کو تین صاع مکئی کے بدلے مزدوری پر لگایا۔ فَعَمَدْتُ إِلَى ذَلِكَ الْفَرَقِ فَزَرَعْتُهُ حَتَّی جب میں اسے مزدوری دینے لگا تو اُس نے ( تھوڑی اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا ثُمَّ جَاءَ سمجھ کر لینے سے انکار کر دیا۔ تب میں نے وہ تین صاع فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَعْطِنِي حَقِي فَقُلْتُ لئے اور انہیں بو دیا۔ (اور خدا نے ان میں اتنی برکت ڈالی کہ ( آخر میں نے اس کی آمدنی) سے گائے، بیل اور انْطَلِقْ إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيْهَا فَإِنَّهَا ان کا چرواہا خرید لیا۔ پھر (ایک دن ) وہ آیا اور کہنے لگا: لَكَ فَقَالَ أَتَسْتَهْزِئُ بِي قَالَ فَقُلْتُ مَا بندہ خدا میرا حق مجھے دیدے۔ میں نے کہا: ان گائے، أَسْتَهْزِئُ بِكَ وَلَكِنَّهَا لَكَ اللَّهُمَّ إِنْ بیل اور چرواہے کے پاس چلے جاؤ کیونکہ وہ تیرے ہیں۔ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وہ کہنے لگا: کیا مجھ سے مذاق کرتے ہو؟ میں نے کہا: میں وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَكُشِفَ عَنْهُمْ تم سے مذاق نہیں کرتا بلکہ وہ دراصل تمہارے ہی ہیں۔ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضا جوئی اطرافه: ۲۲۷۲، ٢۳۳۳، ٣٤٦٥، ٥٩٧٤ کیلئے کیا تھا تو ہم سے غار کا منہ کھول دے۔ چنانچہ ( پتھر ) ان سے اچھی طرح ہٹا۔ (اور غار کا منہ کھل گیا۔)