صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 177
صحيح البخاری جلدم ۱۷۷ ۳۴- كتاب البيوع قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي كُلِّ مَالٍ رَوَاهُ روایت کیا۔عبدالرزاق بن ہمام ) نے (اپنی روایت عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِ میں یہ الفاظ کہے: ہر مال میں۔(اور ) اس کو عبدالرحمن ) بن اسحاق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔اطرافه ۲۲۱۳، ۲۲۰۷، ٢٤٩٥، ٢٤٩٦، ٠٦٩٧٦ تشریح : بَيْعُ الْاَرْضِ وَالدَّوْرِ وَالْعُرُوضِ مُشَاعًا غَيْرَ مَقْسُومٍ: عنوانِ بِابِ میں وضاحت کی گئی ہے کہ مال سے مراد غیر منقولہ جائیداد از قسم اراضی، مکانات اور دیگر املاک غیر تقسیم شدہ ہیں۔منقولہ جائیداد میں جو قابل تقسیم ہے، حق شفعہ نہیں۔الشُّفْعَة فِى كُلّ مَالٍ لَّمْ يُقْسَمُ: لفظ مال و عام ملکیت پر دلالت کرتا ہے مگر حدیث مذکورہ بالا میں جائیداد غیر منقولہ مراد ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں لفظ الْعُرُوضِ سے تشریح کی گئی ہے۔عرض کے معنے عارضی استعمال کی اشیاء مثلاً برتن وغیرہ اثات البیت۔بعض نے منزلی اشیاء کو بھی شفعہ والی قرار دیا ہے مگر یہ مذہب جمہور کے خلاف ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحہ ۲۲) حضرت جابر کی روایت مندرجہ زیر باب کے لیے کتاب الشفعة روایت نمبر ۷ ۲۲۵ بھی دیکھئے۔اس کے راوی متعدد ہیں۔بعض نے روایت میں فِی کُلِّ مَالٍ لَّمْ يُقْسَمُ اور بعض نے فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَم اور بعض نے فِي الْأَمْوَالِ مَا لَمْ تُقْسَم نقل کیا ہے۔اس اختلاف لفظی کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے ہشام کی متابعت ( دوسری سند ) کا حوالہ دیا ہے؛ جس کی روایت کتاب الحيل، باب في الهبة والشفعة میں منقول ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۶۹۷۶) خطابی نے فَلا شُفْعَةَ کے معنے لَا ضَرَرَ کئے ہیں کہ جب جائیداد تقسیم ہو کر ہر ایک شریک کی حدود قائم ہو جائیں تو کسی شریک کو نقصان کا احتمال نہیں رہتا۔نقصان تو شراکت کی وجہ سے ہوتا ہے جو شریک کو حق دیتی ہے کہ جسے چاہے بیچے مگر یہ درست نہیں، کیونکہ پڑوسی کو بھی شفعہ کا حق دیا گیا ہے۔ورنہ ایک بدکار شخص جائیداد خرید کر محلہ کے اخلاق بگاڑنے کا سبب ہو سکتا ہے۔(عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحہ ۲۲) حق شفعہ کے بارے میں آئمہ کا اختلاف رائے ہے، جس کا ذکر کتاب الشفعۃ میں ہوگا۔اس تعلق میں عمدۃ القاری تشریح کتاب البیوع باب ۹۶ ( جزء ۱۲ صفحه ۲۰ ، ۲۱) نيز كتاب الشفعة باب ۳۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔بَاب ۹۸: إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا لِغَيْرِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ فَرَضِيَ جب کوئی شخص کسی دوسرے کے لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خریدے اور وہ اسے پسند کر لے ٢٢١٥: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۲۲۱۵ يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ابو عاصم نے ہمیں بتایا۔ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔