صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 176 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 176

صحيح البخاری جلد ۴ 121 ۳۴- كتاب البيوع الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا نے ہر ایسی جائیداد میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو، شفعہ کا حق وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ رکھا ہے؛ مگر جب حدیں قائم ہو جائیں اور راستے الگ الگ کر دیئے جائیں، تب شفعہ کا حق نہ ہوگا۔فَلَا شُفْعَةَ۔اطرافه ،۲۲۱٤ ، ۲۲۰۷ ، ٢٤۹۰، ٢٤٩٦، ٦٩٧٦۔تشریح : بَيْعُ الشَّرِيكِ مِنْ شَرِيكَهِ: شارعین کے نزدیک اس باب کا تعلق حق شفعہ سے ہے مگر شفعہ سے متعلق مسائل کے بارے میں الگ کتاب الشفعة صحیح بخاری میں موجود ہے۔یہاں مطلق شراکت کا سوال ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مندرجہ روایت نمبر ۲۲۱۳ کا تعلق بظاہر الفاظ اس شفعہ سے ہے جس میں شرکا ء کی ملکیت میں شراکت ہو۔جیسا کہ الفاظ فِى كُلّ مَالِ لَّمْ يُقْسَمُ دلالت کرتے ہیں۔جیسا کہ تجارتی کمپنیوں وغیرہ میں شراکت کی صورت ہوتی ہے۔اگر کوئی شریک اپنا حصہ بیچنا چاہے تو پہلا حق شرکاء کا ہوگا۔(اس تعلق میں کتاب الشفعة روایت نمبر ۷ ۲۲۵ بھی دیکھئے ) شراکت کی صورت میں محض قرب و جوار سے حق شفعہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ شرکاء کا حق مقدم ہوتا ہے۔بَاب ٩٧ : بَيْعُ الْأَرْضِ وَالدُّوْرِ وَالْعُرُوْضِ مُشَاعًا غَيْرَ مَقْسُوْمٍ زمین اور مکان اور ایسے اسباب کا بیچنا جومشتر کہ استعمال میں ہوں اور تقسیم نہ کئے گئے ہوں ٢٢١٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبِ :۲۲۱۴: محمد بن محبوب نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الواحد حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَن (بن زیاد) نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن عبد الرحمن عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سے ابو سلمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے قَالَ قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایسے مال میں جو تقسیم نہ کیا گیا ہو، شفعہ کے حق کا فیصلہ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ مَالٍ لَمْ يُقْسَمْ فَإِذَا فرمایا ہے۔پس جب حد بندی ہو جائے اور راستے وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِفَتِ الطُّرُقُ الگ الگ کر دیئے جائیں تو کوئی شفعہ نہیں۔مسدد نے فَلَا شُفْعَةَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ہم سے بیان کیا کہ عبدالواحد نے ہمیں یہی بتایا اور کہا: عَبْدُ الْوَاحِدِ بِهَذَا وَقَالَ فِي كُلّ مَا ہر اس چیز میں جو تقسیم نہ کی گئی ہو۔(عبدالواحد کے ساتھ ) لَمْ يُقْسَمْ۔تَابَعَهُ هِشَامٌ عَنْ مَعْمَرٍ ہشام بن یوسف ) نے بھی اس حدیث کو معمر سے