صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 175
صحيح البخاری جلدم ۱۷۵ ۳۴- كتاب البيوع خُذِى مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ : چوتھا حوالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا ہے جو زیر باب درج ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۲۱۱) وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَاكُلُ بِالْمَعْرُوفِ : پانچواں حوالہ سورہ نساء کی آیت ۷ کا ہے۔جس میں اجازت دی گئی ہے کہ اگر یتیم کے سرپرست کی مالی حالت اچھی نہ ہو تو وہ اس کی جائیداد یا اس کے کاروبار کی نگرانی کا معاوضہ عرف عام کے مطابق لے سکتا ہے۔فَرَكِبَهُ وَلَمْ يُشَارِطُهُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنِصْفِ دِرْهَم: چھٹا حوالہ حسن بصری کا ہے کہ کسی جگہ جانے کے لئے انہوں نے گدھے والوں سے سواری کا گدھا کرائے پر لیا۔پہلی دفعہ دو دانق ( درہم ) اجرت ٹھہرائی اور دوسری دفعہ نہیں ٹھہرائی اور دستور کے مطابق سے ایک دائق زیادہ دے دیا۔یہ حوالہ سعید بن منصور نے بسند بشیم ، یونس سے نقل کیا ہے۔( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۱۴ ) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۷) زیر باب تین مستند روایتیں منقول ہیں جو عرف عام کا قاعدہ واضح کرتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطیبہ حجام کو پچھنے لگانے کی اجرت ایک صاع کھجور دی۔علاوہ ازیں اس کے ساتھ یہ سلوک فرمایا کہ اس کے مالکوں سے سفارش کی۔اس سے یہ قاعدہ مستنبط ہوتا ہے کہ عرف عام کے مطابق جو عمل ہو، اس میں خوبی کا پہلو غالب ہونا چاہیے۔یہ روایت نمبر ۲۱۰۲ میں گزر چکی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوطیبہ حجام سے اور امام بصری کا گدھے والوں سے دوسری بار اجرت کا فیصلہ کرنا باب ۱۹ میں مندرجہ ہدایات کے منافی نہیں بلکہ آپ نے معاملے میں سہولت کا پہلو اختیار فرمایا اور عرف عام کے دستور سے بڑھ کر سلوک کیا؟ جیسا کہ باب ۱۷، ۱۸ کا منشاء ہے، جس میں حسن سلوک اور اخلاق فاضلہ کی تلقین کی گئی ہے۔اور مندرجہ بالا حوالہ جات کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ پیش کرنے سے یہی بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ عرف عام پر عمل کرتے وقت اخلاق فاضلہ نظر انداز نہیں ہونے چاہئیں بلکہ خلق کریم کا نمونہ دکھانا ضروری ہے۔باب ٩٦ : بَيْعُ الشَّرِيْكِ مِنْ شَرِيْكِهِ شریک کا اپنے شریک سے خرید و فروخت کرنا ۲۲۱۳ : حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۲۲۱۳) محمود بن غیلان) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں زہری سے عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خبر دی۔زہری نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت جابر جَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم