صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 174
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۷۴ ۳۴- كتاب البيوع عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُوْلُ: وَمَنْ میں نے سنا۔ وہ اپنے باپ سے روایت کرتے تھے کہ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ اِنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ وہ ط کہتی تھیں کہ آیت وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا ۔۔۔ یتیم کے كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ اس سرپرست کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو (النساء: ٧) أُنْزِلَتْ فِي وَالِي الْيَتِيمِ اس کا نگران ہو اور اس کی جائیداد کو اچھی حالت الَّذِي يُقِيمُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُ فِي مَالِهِ إِنْ میں رکھتا ہو۔ اگر وہ محتاج ہو تو دستور کے مطابق اس كَانَ فَقِيْرًا أَكَلَ مِنْهُ بِالْمَعْرُوْفِ ۔ اطرافه: ٢٧٦٥، ٤٥٧٥ سے کھا سکتا ہے۔ تشريح : مَنْ أَجْرَى أَمْرَ الْأَمْصَارِ عَلَى مَا يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَهُمْ فِي الْبُيُوعِ وَالْإِجَارَةِ: معاملات بیع و شراء واجارہ وغیرہ سے متعلق ہر ایسا امر جس کے بارے میں شریعت کی طرف سے کوئی -------- نص صریح نہیں، اس میں رواج کے مطابق عمل کیا جائے گا ۔ مثلاً یہ سوال کہ چاول تول کر لئے دیئے جائیں یا ماپ کر؟ شارع علیہ السلام کی طرف سے اس بارہ میں کوئی ہدایت نہیں ۔ کسی جگہ تول سے بیچے جاتے ہیں اور کسی جگہ ٹوپے سے ماپ کر۔ یا مثلاً کہیں مبادلہ اشیاء بالاشیاء کا دستور ہے اور کہیں نقدی کے ذریعہ۔ تو ایسی صورت میں رواج پر عمل کیا جائے گا۔ یہ مفہوم ہے اس باب کا ۔ عرف عام فقہ کے پانچ قواعد میں سے ایک مشہور قاعدہ ہے۔ عنوان باب میں عرف عام کی چند مثالیں دی گئی ہیں۔ سُنتُكُمْ بَيْنَكُمْ: پہلا حوالہ سوت بیچنے والوں کے جھگڑے سے متعلق ہے جو قاضی شریح کے پاس فیصلہ کے لئے لایا گیا۔ جب ان کو بتایا گیا کہ اس بارہ میں فلاں فلاں دستور ہے تو انہوں نے کہا کہ اسی دستور کے مطابق فیصلہ ہوگا ۔ سعید بن منصور نے محمد بن سیرین کی سند سے مذکورہ بالا فیصلہ کا ذکر کیا ہے۔ سُنتَكُمْ أَى الْزِمُوا سُنَتَكُمْ یعنی اپنا طریق ہی اختیار کرو۔ (فتح الباری: اری جز ۴ صفحه ۵۱۳) (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحه (۱۶) لَا بَأْسَ الْعَشَرَةُ بِاَحَدَ عَشَرَ وَيَأْخُذُ لِلنَّفَقَةِ رِبحًا : دوسرا حوالہ عبدالوہاب بن عبدالمجید کا ہے۔ یہ بھی محمد بن سیرین ہی سے مروی ہے۔ جسے ابوبکر بن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ اگر ایک نئے دس دینار سے خریدی جائے اور گیارہ دینار سے بیچی جائے اور عرف عام میں نفع کی یہی نسبت رائج ہو تو یہ جائز ہوگا۔ کیونکہ تاجر کو اشیاء مہیا کرنے میں محنت کے علاوہ اخراجات ؟ راجات بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں جو قیمت میں محسوب ہوں گے۔ امام مالک نے بطور قاعدہ یہ فتوی دیا ہے کہ تاجر کسی پونچی کی قیمت کا اندازہ کرنے میں ہر اس امر کو مد نظر رکھنے کا حق دار ہے جو براہ راست اس کی قیمت پر اثر انداز ہو۔ مثلاً کپڑا رنگایا اور سلایا ہے، را ، رنگائی اور سلائی کی اُجرت محسوب ہوگی ۔ لیکن جو کپڑا طے کرنے اور رنگائی اور گٹھا بندھوانے میں تاجر کی مدد کرتا ہے، اس کی اجرت تاجر پر ہوگی نہ خریدار پر ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۵۱۳) مؤطا امام مالک، کتاب البیوع، باب بيع المرابحة)