صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 172 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 172

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۷۲ ۳۴- كتاب البيوع باب ٩٥ مَنْ أَجْرَى أَمْرَ الْأَمْصَارِ عَلَى مَا يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَهُمْ فِي الْبُيُوْعِ وَالْإِجَارَةِ وَالْمِكْيَالِ وَالْوَزْنِ وَسُنَنِهِمْ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَمَذَاهِبِهِمُ الْمَشْهُورَةِ اس امر کے بیان میں کہ ) جس نے معاملات بیع اجارہ ، پیمانہ اور وزن اور ان کے طریقہ کاروبار میں ہر ملک کے دستور کے موافق ان کی نیتوں اور مشہو اور مشہور و معروف رسم و رواج کے موافق فیصلہ کیا یعنی ان کی نیتوں اور ان کے مشہور مذہبوں کے مطابق وَقَالَ شُرَيْحٌ لِلْغَزَّالِيْنَ سُنَتُكُمْ بَيْنَكُمْ اور شریح نے سوت بیچنے والوں سے کہا: منافع کے بارہ رِبْحًا} وَقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ میں وہی طریق اختیار کرو جو تمہارے درمیان جاری أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ لَا بَأْسَ الْعَشَرَةُ ہے۔ اور عبدالوہاب ( بن عبدالمجید ) نے ایوب سے اور ایوب نے محمد بن سیرین) سے (ان کا فتوی ) نقل کیا بِأَحَدَ عَشَرَ وَيَأْخُذُ لِلنَّفَقَةِ رِبْحًا۔ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ہے کہ اس کا مال گیارہ پر بیچنے میں کوئی قباحت نہیں اور مال پر جو خرچہ پڑا ہے ، اس پر بھی نفع لے۔ اور نبی یا لِهِنْدِ خُذِي مَا يَكْفِيْكِ وَوَلَدَكِ نے (ابوسفیان کی بیوی ہندہ سے کہا کہ تو (اپنے خاوند بِالْمَعْرُوْفِ وَقَالَ تَعَالَى: وَمَنْ کے مال میں سے) اتنا خرچ لے لیا کر جتنا کہ تیرے لئے كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلُ اور تیرے بچوں کے لئے دستور ملک کے مطابق کافی بِالْمَعْرُوْفِ (النساء: ٧) وَاكْتَرَی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو محتاج ہو، وہ دستور کے الْحَسَنُ مِنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مِرْدَاسٍ مطابق یتیم کے مال میں سے ) کھائے۔ اور حسن حِمَارًا فَقَالَ بِكُمْ قَالَ بِدَانَقَيْنِ فَرَكِبَهُ (بصری) نے عبداللہ بن مرداس سے ایک گدھا کرائے ثُمَّ جَاءَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ الْحِمَارَ پر لیا تو انہوں نے پوچھا: کتنے پر؟ کہا: دو دائق۔ چنانچہ الْحِمَارَ فَرَكِبَهُ وَلَمْ يُشَارِطْهُ فَبَعَثَ وہ اس پر سوار ہوئے۔ پھر دوسری بار آئے اور کہا کہ جلدی سے گدھا لاؤ۔ پھر گدھا لے کر اس پر سوار ہو گئے مگر کرایہ إِلَيْهِ بِنِصْفِ دِرْهَمٍ۔ نہ چکایا اور آدھا درہم یعنی تین دائق اسے بھیجوا دیئے۔ لفظ ”رِبُحًا " عمدة القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲۰ صفحہ ۱۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔