صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 171
صحيح البخاری جلدم 121 باب ٩٤ : بَيْعُ الْجُمَّارِ وَأَكْلُهُ کھجور کا گا بھا بیچنا اور اس کا کھانا ۳۴- كتاب البيوع ۲۲۰۹: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيْدِ هِشَامُ ۲۲۰۹: ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے ہمیں بتایا۔ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابو بشر سے، أَبِي بِشْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ابو بشر نے مجاہد سے، مجاہد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کے پاس تھا اور آپ کھجور کا گا بھا کھا رہے تھے۔آپ يَأْكُلُ جُمَّارًا فَقَالَ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةٌ نے فرمایا: درختوں میں سے ایک درخت ہے، جس کی كَالرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ شِان مومن مرد کی سی ہے۔میں نے چاہا کہ میں کہوں : وہ کھجور ہے۔مگر میں چونکہ ان سب میں سے کم سن تھا (اس لئے میں کہنے سے رک گیا۔) تب ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔هي النَّخْلَةُ فَإِذَا أَنَا أَحْدَثُهُمْ قَالَ هِيَ النَّخْلَةُ۔اطرافه: ۶۱ ۶۲ ۷۲ ۱۳۱، ٤٦٩٨، ٥٤٤٤، ٥٤٤٨، ٦١٢٢، ٦١٤٤۔تشریح : بَيْعُ الْجُمَّارِ وَاكْلُهُ : اس حدیث میں بیچ کا ذکر نہیں۔کیونکہ کھجور کا گا بھا کچا ہونے کی حالت میں کھایا جاتا ہے اور ہر خوردنی شئے بیچی جاسکتی ہے؛ اس لئے باب بَيْعُ الْمُخَاضَرَة کے معا بعد اس کا ذکر کر کے اس سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ ایسی بیع مطلق جائز ہے۔عنوان باب مصدر یہ ہے۔جواز یا عدم جواز کا تعلق ملکی دستور سے ہے۔روایت نمبر ۲۲۰۹ کی مزید تشریح کے لیے دیکھئے کتاب العلم روایت نمبر ۶۱ ۶۲۔