صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 170 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 170

صحيح البخاري - جلدم 12۔۳۴- كتاب البيوع قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ وَالْمُلَامَسَةِ صلى اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، محاضرہ، ملامسہ، منابذہ عن وَالْمُنَابَذَةِ وَالْمُزَابَنَةِ۔اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔۲۲۰۸: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۲۲۰۸ : قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسماعیل بن جعفر إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے، انہوں نے حضرت أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (پختہ کھجور کے بدلے میں ) پھل (جو درخت پر ہو ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ ثَمَرِ التَّمْرِ بیچنے سے منع فرمایا ہے، تا وقتیکہ وہ شوخ رنگ کا نہ ہو حَتَّى يَزْهُوَ فَقُلْنَا لِأَنَسٍ مَا زَهْوُهَا قَالَ جائے۔ہم نے حضرت انس سے پوچھا کہ اس کی تَحْمَرُ وَتَصْفَرُّ أَرَأَيْتَ إِنْ مَّنَعَ الله شوخ رنگی سے کیا مطلب ہے؟ کہا: سرخ ہو جائے یا الثَّمَرَ بِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَ أَخِيْكَ۔زرد ہو جائے۔بھلا بتلاؤ تو سہی ، اگر اللہ تعالیٰ اس کا پھل روک دے تو تو کس چیز کے بدلے میں اپنے اطرافه: ١٤٨٨، ۲۱۹٥، ۲۱۹۷، ۲۱۹۸۔بھائی کا مال لینا جائز سمجھے گا۔تشریح : بَيْعُ الْمُخَاصَرَةِ : مُخَاطَرَة مشتق ہے خَضَرَةٌ ( یعنی ہرا پن سے ) مُحَاضَرَة یعنی ہری فصل کی خرید و فروخت۔مُحافلة مشتق ہے حقل (یعنی کھیتی ) سے۔مُحافلة کے معنے ہیں خشک اناج کے عوض کھڑی فصل کی خرید و فروخت جبکہ دانہ ابھی بالیوں میں ہی ہو۔امام مالک کے نزدیک محاقلة کے معنے ہیں: قابل کاشت زمین کا گندم وغیرہ کے عوض میں ٹھیکے پر دینا، جسے مُزَارَعَةً بھی کہتے ہیں۔اس کی بحث آگے (کتاب المزارعة میں ) آئے گی۔احناف نے مُحاضرة کی مطلق اجازت دی ہے۔امام مالک اور امام شافعی نے اس شرط پر اس کی اجازت دی ہے کہ پختگی ظاہر ہو جائے۔امام شافعی کے نزدیک ہری فصل کی بیع جائز ہے بشرطیکہ وہ کاٹ لی جائے ، یعنی چارہ وغیرہ کی۔غرض ایسی فصل میں حاصلات وغیرہ کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔اس لئے اس کی بیع بھی از قسم مزابنہ ہے۔ان کے نزدیک بادام، اخروٹ وغیرہ پھل کا بھی نا تمام حالت میں بیچنا نا جائز ہے۔(فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۵۱) مزابنہ ، منابذہ اور ملامسہ کے لئے تشریح باب ۶۲ ۶۳ ۸۲ بھی دیکھئے۔