صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 169 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 169

صحيح البخاري - جلدم ۱۶۹ ۳۴- كتاب البيوع کے مبادلے میں بھی تو کمی بیشی کا احتمال ہے۔کیونکہ نمی ہر تازہ پھل میں کم و بیش ہوتی ہے۔لیکن یہ ایک قسم کا دقیق احساس ہے کہ اس بناء پر اجازت کا فتویٰ صادر کرنا نص صریح کے خلاف اور قیاس مع الفارق ہے۔ایسا خفیف فرق قابل نظر انداز ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۵۱۰،۵۰۹) بَاب ۹۲ : بَيْعُ النَّخْلِ بِأَصْلِهِ کھجور کے درخت بیخ و بن سمیت بیچنا ٢٢٠٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۲۲۰۶ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے بھی کھجور کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ أَبْرَ نَخْلًا درخت کے پھل پیوند کئے ہوں ، پھر وہ کھجور بیخ و بن ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِي أَبْرَ ثَمَرُ النَّخْلِ سمیت بیچ دے تو ایسی کھجوروں کا پھل اس شخص کا ہوگا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔اطرافه ۲۲۰۳، ۲۲۰۴، ٢۳۷۹، ٢٧١٦۔الله جس نے پیوند کیا ہو؟ بجز اس کے کہ خریدار (اس کی) شرط کرلے۔تشریح: بَيْعُ النَّخْلِ بِأَصْلِهِ : جمہور نے درختوں کی خرید و فروخت ان کے تنوں سمیت اور صرف پھل کی خرید وفروخت میں فرق ملحوظ رکھا ہے۔پہلی قسم کا سودا ان کے نزدیک جائز ہے، خواہ پھل کچا ہی ہو اور دوسرا سودا بموجب نص صریح نا جائز۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جز ۴۶ صفحه ۵۱، عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۴۔بَابِ ۹۳: بَيْعُ الْمُخَاضَرَةِ پھل یا کھیتی بیچنا جبکہ وہ ہری ہو ۲۲۰۷ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ وَهْبٍ :۲۲۰۷ اسحاق بن وہب ( علاف واسطی) نے ہم حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي سے بیان کیا کہ عمر بن یونس نے ہمیں بتایا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ میرے باپ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ اسحاق بن الْأَنْصَارِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ و نه أَنَّهُ ابی طلحہ انصاری نے مجھے بتایا کہ حضرت انس بن مالک