صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 168 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 168

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۶۸ ۳۴- كتاب البيوع ☆ کا حق قرار دیا ہے قطع نظر اس کے کہ شرط ہو یا نہ ہو اور امام طحاوی نے محولہ بالا حدیث سے استنباط کیا ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے قبل باغ یا فصل کی بیچ کی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح وہ ٹھیکے پر بھی دیئے جا سکتے ہیں۔ امام بیہقی نے اس فتوے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس امر سے متعلق صریح حکم وارد ہوا ۔ صریح حکم وارد ہوا ہے، اسے اسی حا اہے،اسے اسی حد تک محدود رکھنا چاہیے ۔ خو خصوصاً جبکہ اس بارے میں صریح ممانعت موجود ہو۔ علامہ عینی نے اس تعلق میں استدلالات اربعہ (عبارة النص، اشارة النص، دلالة النص اور اقتضاء النص ) سے عذر تلاش کر کے بیہقی کے اعتراض کو رڈ کر دیا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحہ ۱۳۱۳) ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۵۰۹،۵۰۸) غرض اس قسم کے فقہی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ بَاب ۹۱ : بَيْعُ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلًا غلے کو ماپ کر اس کے عوض کھڑی فصل بیچنا ٢٢٠٥ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۲۲۰۵ : قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے ہمیں عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نار نافع نے حضرت ابن عمر قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ( اور مزابنہ یہ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ تَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِن ہے، کہ کوئی اپنے باغ کا پھل بیچے۔اگر مھجور کے درخت L كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ كَرْمًا ہوں تو ان کی خام کھجوریں پختہ کھجوروں کے بدلے میں أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيْبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ زَرْعًا ماپ کر دی جائیں اور اگر وہ انگور کی بیلیں ہیں تو ان کا خام أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ پل، منقہ کو ماپ کر اس کے عوض بیچا جائے اور اگر کھڑی کو اسکے فصل ہو تو غلہ کو ماپ کر اس کے عوض میں خریدی جائے كله۔ اطرافه ۲۱۷۱، ۲۱۷۲، ۲۱۸۵۔ صلى الله اور آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ ۔ تشريح : بَيْعُ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلا: فقہاءکا اس بت پر اتفاق ہےکہ جو نئے غیرمعین ہو اس کا معین ہے سے مبادلہ بصورت بیع جائز نہیں۔ اسی طرح خام پھل کا مبادلہ پختہ کے بدلے میں جمہور کے نزدیک درست نہیں۔ نہ برابر مقدار میں نہ کم و بیش ۔ اس قسم کی خرید و فروخت میں نقصان کا احتمال ہے۔ ہر قسم علیحدہ بیچ کر دوسری قسم لی جائے۔ جیسا کہ اس سے متعلق باب ۸۲ کی تشریح میں بھی وضاحت گزر چکی ہے۔ امام ابو حنیفہ نے خام فصل کی فروخت پختہ اجناس کے عوض جائز قرار دی ہے اور علامہ طحاوی نے اس جواز کے حق میں یہ دلیل دی ہے کہ خام پھلوں (شرح معانی الآثار ، كتاب البيوع، باب بيع الثمار قبل ان تتناهی، جز ۴۶ صفحه ۲۷،۲۶)