صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 168
صحيح البخاري - جلدم ۱۶۸ ۳۴- كتاب البيوع کا حق قرار دیا ہے قطع نظر اس کے کہ شرط ہو یا نہ ہو اور امام طحاوی نے محولہ بالا حدیث سے استنباط کیا ہے کہ پختگی ظاہر ہونے سے قبل باغ یا فصل کی بیچ کی جاسکتی ہے یا اسی طرح وہ ٹھیکے پر بھی دیئے جا سکتے ہیں۔امام بیہقی نے اس فتوے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس امر سے متعلق صریح حکم وارد ہوا ہے، اسے اس حد تک محدود رکھنا چاہیے۔خصوصاً جبکہ اس بارے میں صریح ممانعت موجود ہو۔علامہ عینی نے اس تعلق میں استدلالات اربعہ (عبارة النص، اشارۃ النص، دلالۃ النص اور اقتضاء النص ) سے عذر تلاش کر کے بہتی کے اعتراض کو رڈ کر دیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۲ صفحه ۱۳۱۲) ( فتح الباری جز یه صفحه ۵۰۹،۵۰۸) غرض اس قسم کے فقہی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔بَاب ۹۱: بَيْعُ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلًا غلے کو ماپ کر اس کے عوض کھڑی فصل بیچنا الْمُرَابَنَةِ أَنْ تَبِيْعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ ٢٢٠٥: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۲۲۰۵ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ نے ہمیں عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ( اور مزابنہ سیہ ہے کہ کوئی اپنے باغ کا پھل بیچے۔اگر کھجور کے درخت كَانَ نَخْلًا بِتَمْرِ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ كَرْما ہوں تو ان کی خام کھجوریں پختہ کھجوروں کے بدلے میں أَنْ تَبِيْعَهُ بِزَبِيْبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَ زَرْعًا باپ کر دی جائیں اور اگر وہ انگور کی بیلیں ہیں تو ان کا خام أَنْ يَبِيْعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ پھل، منقہ کو ماپ کر اس کے عوض بیچا جائے اور اگر کھڑی فصل ہو تو غلہ کو ماپ کر اس کے عوض میں خریدی جائے عَنِ كله۔اطرافه ۲۱۷۱، ۲۱۷۲، ۲۱۸۵ اور آنحضرت ﷺ نے اس قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے۔تشریح : بَيْعُ الزَّرْعِ بِالطَّعَامِ كَيْلا: فتبارک اس بات پر اتفاق ہے کہ جو ھئے غیرمعین ہو، اس کا عین جھئے سے مبادلہ بصورت بیع جائز نہیں۔اسی طرح خام پھل کا مبادلہ پختہ کے بدلے میں جمہور کے نزدیک درست نہیں۔نہ برابر مقدار میں نہ کم و بیش۔اس قسم کی خرید و فروخت میں نقصان کا احتمال ہے۔ہر قسم علیحدہ بیچ کر دوسری قسم لی جائے۔جیسا کہ اس سے متعلق باب ۸۲ کی تشریح میں بھی وضاحت گزر چکی ہے۔امام ابوحنیفہ نے خام فصل کی فروخت پختہ اجناس کے عوض جائز قرار دی ہے اور علامہ طحاوی نے اس جواز کے حق میں یہ دلیل دی ہے کہ خام پھلوں (شرح معانی الآثار ، كتاب البيوع، باب بيع الثمار قبل ان تتناهی، جزء ۲ صفحه ۲۶، ۲۷)