صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 167
صحيح البخاری جلدم 192 ۳۴- كتاب البيوع تشریح : مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أَبْرَتْ: اَبْرَ يُؤْتِرُ تَأْبِيرًا۔کھجور کا مور لے کر مادہ کھجور کے پھول میں رکھنا۔( فتح الباری جز ہم صفحہ ۵۰۷) عنوانِ باب میں دو مسئلوں کا ذکر ہے۔اول پیوندی کھجور کے درخت یا کاشت شدہ زمین کی فروختگی اور دوسرا ان کو ٹھیکے پر دینا۔اگر نخلستان پھل دار ہو یا کھیتی پکنے والی ہو تو ان کی بیچ یا اجارہ داری کا عمل فصل کٹنے کے بعد شروع ہوگا۔بجز اس کے یہ شرط ٹھہرا لی جائے کہ فصل مشتری یا اجارہ دار کی ہوگی اور بائع یہ شرط قبول کرلے۔ورنہ شرط کا ذکر نہ ہونے کی صورت میں بائع حاصلات کا حق دار ہوگا۔لَمْ يُذْكَرِ الثَّمَرُ: یعنی اگر بوقت بیچ پھل یا کھیتی کی فصل کا ذکر نہ کرے تو اس صورت میں وہ بائع کے ہوں گے۔وَكَذَلِكَ الْعَبُدُ۔اسی طرح غلام لونڈی بھی۔اس فقرے سے اس حدیث کی طرف اشارہ ہے، جس میں آتا ہے: مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يُشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔(ترمذى، كتاب البيوع، باب ما جاء في ابتياع النخل بعد التأبير والعبد وله مال یعنی جو شخص صاحب جائیداد غلام یا کنیز کو فروخت کرے تو یہ جائیداد بائع کی ہوگی، بجز اس کے کہ مشتری اپنے لئے شرط ٹھہرا لے۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ لِى إِبْرَاهِيمُ: ابراہیم سے مراد امام بخاری کے شیخ ابن موسیٰ رازی ہیں اور ہشام بن یوسف صنعانی ابراہیم کے شیخ ہیں۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۵۰۸) روایت نمبر ۳ ۲۲۰ میں امام بخاری نے ابن جریج کے جس قول کا حوالہ دیا ہے وہ موقوف ہے۔اثنائے گفتگو میں مذکورہ بالا اشیاء کا تذکرہ ہوا ہے۔امام موصوف جہاں کہیں قال کہ کر اپنے کسی شیخ کی روایت کا حوالہ دیتے ہیں، وہاں بالعموم یہی صورت ہوتی ہے۔اس سقم کا ازالہ روایت نمبر ۲۲۰۴ سے ہو جاتا ہے کہ نافع کی یہی روایت بسند حضرت عبداللہ بن عمر مرفوعاً نقل کی گئی ہے۔رویت نمبر ۲۲۰۶ بھی انہی سے بحوالہ لیث بن سعد مرفوعاً منقول ہے۔غلام، لونڈی کے بارے میں بھی نافع ہی کی روایت ہے جو بقول بیہقی موقوف ہے کیا مگر امام بخاری نے یہ بھی کتاب المساقاة باب ۱۷ روایت نمبر ۲۳۷۹ میں مرفوعا نقل کی ہے۔کھیتی سے متعلق نافع ” کی روایت سوائے ابن جریج کے اور کسی راوی نے نقل نہیں کی اور ان کی یہ روایت موقوف ہے۔(فتح الباری جز ۴ صفحه ۵۰۸) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفحه ۱۱) جہاں تک مسائل معنونہ کا تعلق ہے، علامہ عینی نے تفصیل سے فقہاء کے اختلافات کا ذکر کیا ہے جو طویل ہیں۔ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جمہور کے نزدیک پیوندی درختوں کا پھل اگر بوقت بیع عقد میں تصریح نہیں تو بائع کا ہوگا ورنہ مشتری کا۔امام ابوحنیفہ نے پیوندی اور غیر پیوندی میں کوئی فرق نہیں رکھا۔دونوں قسم کی بیع یا اجارہ داری میں اگر شرط نہیں تو بائع کا حق ہوگا کہ وہ پختہ پھل یا فصل سمیٹ لے۔جن فقہاء نے پیوندی اور غیر پیوندی میں فرق کیا ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ کھجور کا پیوند بہت محنت چاہتا ہے۔ایک ایک درخت کی تلاش کر کے نردرخت کا مور مادہ درخت کے پھول میں ڈالا جاتا ہے۔چونکہ یہ عمل تأییر مالک کے لئے کیا گیا ہے، اس لئے عدم صراحت کی صورت میں وہی اس کا حق دار ہوگا۔ابن ابی لیلی نے مشتری سنن الكبرى للبيهقي، كتاب البيوع، باب ثمر الحائط يباع أصله، جزء ۵ صفحه ۲۹۸)