صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 162
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۶۲ ۳۴- كتاب البيوع وَاَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بنُ زَيْدٍ۔اس جملہ کا عطف فقرہ ابو الزِّنَادِ پر ہے۔یعنی ابوالزناد نے کہا کہ مجھے خارجہ بن زید نے بتایا۔ثریا ستارہ موسم گرما کے شروع میں صبح کو نکلتا ہے جب حجاز میں گرمی تیز ہوتی ہے اور پھل پکنے شروع ہوتے ہیں اور ان میں پختگی نمایاں ہو جاتی ہے اور پھر بیماری کی وجہ سے ان کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں رہتا۔ثریا کا طلوع اہل حجاز کے نزدیک پختگی کی ایک علامت تھی۔اصل اعتبار پختگی ظاہر ہونے کا ہے۔جیسا کہ محولہ بالا روایت کے الفاظ فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ سے ظاہر ہے۔یعنی زردی سرخی سے نمایاں ہو جائے۔(فتح الباری جزء صفحہ۴۹۹) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ رَوَاهُ عَلِيُّ ابْنُ بَحْرٍ : یه علی بن بحر امام بخاری کے استاد ہیں اور قطان رازی کے نام سے مشہور ہیں۔حَدَّثَنَا حَكام۔۔۔۔حکام بن مسلم بھی رازی ہیں۔عنہہ نام کے دو شخص تھے۔ایک ابن سعید بن ضریں کوئی قاضی رہے۔یہ بھی رازی کہلاتے تھے۔صحیح بخاری میں ان کی صرف یہی ایک روایت ہے اور دوسرے عنبہ بن خالد ہیں۔باجی صاحب کفایہ نے بحوالہ ابوداؤد عنبہ بن سعید سے یہی روایت نقل کی ہے۔جبکہ ابو داؤد نے عنبہ بن خالد سے یہی روایت نقل کی ہے۔اس لئے انہیں نام سے غلط نہی پیدا ہوئی ہے کہ یہ وہی قاضی عنبہ ہیں، جن سے امام بخاری نے روایت نقل کی ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۵۰۰) امام موصوف اس حوالہ سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ابوز ناد کا مذکورہ بالا قول غریب روایات میں سے نہیں۔جس کو ایک فرد رازی نے نقل کیا ہو اور وہ اس وجہ سے نا قابل اعتبار قرار دی جائے۔نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ : روایت نمبر ۲۱۹۴ کے آخر میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع اور مشتری دونوں ومنع فرمایا کہ پھل پختہ ہونے سے پہلے لیا دیا جائے۔بائع کو اس لئے کہ اپنے بھائی کا مال باطل طریق سے نہ کھائے اور مشتری کو اس لئے کہ اس کا مال ضائع نہ ہو۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ پختگی ظاہر ہونے کے بعد پھل دار درختوں کی خرید و فروخت بغیر قید و شرط ہوسکتی ہے؛ اس سے قبل نہیں۔یعنی اس وقت اس شرط کی ضرورت نہیں کہ پھل درخت پر ہی رہے گایا تو ڑا جائے گا۔امام مسلم نے بھی نافع کی مذکورہ بالا روایت نقل کی ہے۔اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: حَتَّی يَأْمَنَ الْعَاهَةَ۔* یعنی بیماری سے محفوظ ہو جائے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۵۰۰) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ : امام بخاری کی اس مذکورہ بالا تفسیر کیلئے دیکھئے روایت ۲۱۹۷۔جہاں حضرت انس بن مالک سے منقول ہے کہ ان سے پوچھا گیا: وَمَا يَزُهُو؟ یعنی شوخ رنگ کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: يَحْمَارُ أَوْ يَصْفَارُ یعنی سرخ ہو جائے یا زرد۔بعض پھل پکنے پر سرخ ہو جاتے ہیں اور بعض زرد۔دھو کے معنے رنگ کا شوخ ہو جانا۔اسی سے يَزْهُو فعل مضارع ہے۔(مسلم، كتاب البيوع، باب النهى عن بيع الثمار قبل بدوّ صلاحها بغير شرط القطع)