صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 163
صحيح البخاری جلدم ۱۶۳ ۳۴- كتاب البيوع باب ۸۷ إِذَا بَاعَ القِمَارَ قَبْلَ أَنْ يَّبْدُوَ صَلَاحُهَا ثُمَّ أَصَابَتْهُ عَاهَةٌ فَهُوَ مِنَ الْبَائِعِ اس بیان میں کہ اگر کوئی پھل بیچے قبل اس کے کہ اس کی صلاحیت نمایاں ہو پھر اس پر کوئی آفت آ جائے تو وہ نقصان بیچنے والے کا ہوگا ۲۱۹۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۲۱۹۸: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ (امام مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے حمید سے، أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ حمید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ فَقِيْلَ کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، تاوقتیکہ وہ شوخ رنگ نہ لَهُ وَمَا تُزْهِي قَالَ حَتَّى تَحْمَرَّ فَقَالَ ہو جا ئیں۔آپ سے پوچھا گیا کہ شوخ رنگ کیا ہے؟ فرمایا: یہاں تک کہ سرخ رنگ ہو جائے۔رسول اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھا یہ تو بتاؤ کہ اگر الہ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذُ پھل ہی روک دے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيْهِ۔اطرافه ۱٤۸۸ ، ۲۱۹۵، ۲۱۹۷، ۲۲۰۸ مال کس چیز کے بدلے لے گا۔۲۱۹۹ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ :۲۱۹۹ اور لیٹ نے کہا: یونس نے ابن شہاب سے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ روایت کرتے ہوئے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے ثَمَرًا قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ثُمَّ أَصَابَتْهُ کہا کہ اگر ایسا شخص پھل خریدے قبل اس کے کہ اس کی صلاحیت کی حالت نمایاں ہو اور پھر اس پر کوئی عَاهَةٌ كَانَ مَا أَصَابَهُ عَلَى رَبِّهِ۔أَخْبَرَنِي آفت آجائے تو اس کے نقصان کی ذمہ داری اس سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ کے مالک پر ہے۔( ابن شہاب زہری نے کہا ) سالم عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن عبد اللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت قَالَ لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُو کرتے ہوئے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم