صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 161
صحيح البخاری جلدم او 171 ۳۴- كتاب البيوع تشریح : بَيْعُ الشَّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا: امام موصوف کو تین باب قائم کرکے اس قدر حوالہ جات کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بیچ مزابنہ اور محاقلہ کے بارے میں جس کا ذکر باب ۸۲ میں گزر چکا ہے، فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ درخت کا پھل پکنے اور فصل تیار ہونے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کی صورت اور اس کے حدود کیا ہیں ؟ آیا اس میں کسی قسم کی استثنائی صورت بھی ہے یا نہیں؟ اگر پھل پکنے سے قبل درخت کی بیع اس شرط پر ہو کہ وہ پھل چن لے گا تو ان کے نزدیک یہ بیچ درست ہوگی۔صحت بیچ پر سب کا اجماع ہے اور اگر یہ شرط ہو کہ پھل درخت پر ہی رہے گا تو ایسی بیج بالا جماع باطل ہے۔احناف کے نزدیک اگر شرط کے مطابق پھل توڑا نہیں گیا تو بیع صحیح ہوگی اور عدم ایفائے شرط کا گناہ مشتری پر ہوگا اور اگر بیع میں پھل توڑ لینے کی شرط نہیں تو پختگی سے پہلے ایسی پیچ نا جائز ہے کیونکہ پکنے سے پہلے پھل ضائع ہونے کا احتمال ہے۔جس سے مشتری کو نقصان پہنچنے اور جھگڑا پیدا ہونے کا امکان ہے۔جمہور کے خلاف ابن ابی لیلی، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے عرایا کے سوا باقی پھلوں کی بیچ خام ہونے کی حالت میں نا جائز قرار دی ہے۔امام اوزاعی ، امام ابو حنیفہ اور امامین ابو یوسف ومحمد کے نزدیک جب پھلوں کی پختگی ظاہر ہونے لگے تو پھل بیچنا جائز ہے۔(بداية المجتهد، كتاب البيوع الباب الثالث فى البيوع المنهى عنها من قبل الغبن، جزء ثانی صفحہ۱۱۲) امام بخاری بھی اسی طرف مائل ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے : أَنَّ رَسُولَ اللهِ قَالَ مَنْ بَاعَ نَحْلا قَدْ أبْرَتْ فَتَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يُشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کھجور کے ایسے درخت خریدے جنہیں پیوند کیا گیا ہو تو اس کا موجودہ پھل بائع کا ہو گا سوا اس کے کہ مشتری نے شرط ٹھہرالی ہو کہ وہ لے گا۔( باب ۹۰، روایت نمبر ۲۲۰۴) وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ ابى الزِّنَادِ۔۔۔بیہقی نے بسند یونس؛ حضرت زید بن ثابت کی مذکورہ بالا روایت بحوالہ ابوالزناد نقل کی ہے۔اسی طرح سعید بن منصور، ابوداؤد اور طحاوی نے بھی ہو (فتح الباری جزء ۴ صفحه ۴۹۸ ) (عمدۃ القاری جز ۱۲۰ صفه ۲ ) فَلَا تَتَبَايَعُوا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُ الثَّمَرِ كَالْمَشُورَةِ : علامہ طحاوی کا مذہب ہے کہ آپ کا یہ ارشاد بطور مشورہ ہے نہ ممانعت تحریمی۔(تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جز ۱۲ صفحہ۳) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مشورہ اس امر پر مبنی ہے کہ جھگڑوں کا دروازہ بند ہو۔مشتری بعض وقت عذر کرنے لگ جاتا ہے کہ پھل میں کیڑا لگ گیا ہے یا وہ جھڑ گیا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ پھل کی پختگی ظاہر ہونے پر ہی خرید و فروخت کی جائے۔یہ امر کہ مسئلہ معنونہ کے متعلق ائمہ کا اجماع ہے، امام ابن حجر کو تسلیم نہیں۔( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۴۹۸) سنن الكبرى للبيهقى ، كتاب البيوع، باب الوقت الذي يحل فيه بيع الثمار ، جزء ۵ صفحه ۳۰۱) سنن ابو داؤد، کتاب البيوع، باب فى بيع الثمار قبل ان يبدو صلاحها) (شرح معانی الآثار، كتاب البيوع، باب بيع الثمار قبل ان تتناهی، جز ۴ صفحه (۲۸)