صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 159 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 159

صحيح البخاري - جلدم ۱۵۹ ۳۴- كتاب البيوع كَالْمَشُوْرَةِ يُشِيرُ بِهَا لِكَثْرَةِ نے بطور مشورہ فرمایا کیونکہ جھگڑے بہت ہو گئے تھے۔خُصُوْمَتِهِمْ وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ خارجہ بن زید بن ثابت نے مجھے خبر دی کہ حضرت زید ابْنِ ثَابِتٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَمْ يَكُنْ بن ثابت اپنی زمین کے پھل اس وقت تک نہیں بیچتے يَيْعُ ثِمَارَ أَرْضِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الثَّرَيَّا تھے ، جب تک کہ ثریا ستارہ طلوع نہ کرتا اور زردی اور فَيَتَبَيَّنَ الْأَصْفَرُ مِنَ الْأَحْمَرِ۔قَالَ سرخی نمایاں نہ ہو جاتی۔ابو عبداللہ (امام بخاریؒ) نے أَبُو عَبْدِ اللَّهِ رَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ کہا : علی بن بحر نے یہ روایت کی ہے، ( کہا:) حکام حَدَّثَنَا حَكَامٌ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ عَنْ ( بن سلم رازی) نے ہم سے بیان کیا کہ عنبہ بن سعید ) زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِي الزِنَادِ عَنْ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ذکریا سے، زکریا نے ابوالزناد عَنْ سَهْلٍ عَنْ زَيْدٍ۔سے ، ابوالزناد نے عروہ سے، عروہ نے حضرت سہل سے روایت کی۔انہوں نے حضرت زید بن ثابت) سے۔اطرافه: ۲۱۷۳، ۲۱۸٤، ۲۱۸۸، ۲۳۸۰۔٢١٩٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۹۴: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کی خرید و فروخت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ سے اس وقت تک منع فرمایا ہے جب تک کہ ان کی القِمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ۔حالت نمایاں نہ ہو جائے۔بیچنے والے اور خرید نے والے دونوں کو منع فرمایا ہے۔اطرافة: ۱٤٨٦ ، ۲۱۸۳، ٢١۹۹، ٢٢٤٧، ٢٢٤٩۔:۲۱۹٥: حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلِ أَخْبَرَنَا :۲۱۹۵: ( محمد ) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيْلُ عَنْ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔(انہوں نے کہا) أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ کہ ہم کو حمید طویل نے خبر دی۔انہوں نے حضرت انس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ ضِی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے