صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 157
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۵۷ ۳۴- كتاب البيوع بَاب ٨٤ : تَفْسِيرُ الْعَرَايَا عرایا کی تفسیر وَقَالَ مَالِكَ الْعَرِيَّةُ أَنْ يُعْرِيَ الرَّجُلُ اور مالک نے کہا کہ عربیہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کو الرَّجُلَ النَّخْلَةَ ثُمَّ يَتَأَذَّى بِدُخُولِهِ عَلَيْهِ کھجور کے درخت مفت دیدے۔ پھر وہاں اس کے آنے سے تکلیف محسوس کرے تو اُسے اجازت دی گئی فَرُخِّصَ لَهُ أَنْ يَشْتَرِيَهَا مِنْهُ بِتَمْرٍ۔ ہے کہ وہ اس سے ان کو خشک کھجور کے بدلے خریدے۔ وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ الْعَرِيَّةُ لَا تَكُوْنُ إِلَّا اور ( محمد ) بن ادریس نے کہا: (عربیہ کی بیع ) جائز نہیں بِالْكَيْلِ مِنَ التَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ وَلَا تَكُوْنُ ہوتی مگر اسی وقت کہ اسے دست بدست کھجور کے بدلے بِالْجِزَافِ۔ وَمِمَّا يُقَوِّيْهِ قَوْلُ سَهْلِ بْنِ ماپ کر مبادلہ کیا جائے۔ یعنی محض اندازے سے مبادلہ أَبِي حَثْمَةَ بِالْأَوْسُقِ الْمُوَسَّقَةِ۔ وَقَالَ نہ ہو۔ اور حضرت سہل بن ابی حشمہ کے قول سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ (انہوں نے کہا: ) وسق سے ماپ تول ابْنُ إِسْحَاقَ فِي حَدِيْثِهِ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَتِ الْعَرَايَا انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یوں نقل کیا أَنْ يُعْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَالِهِ ہے کہ عرایا یہ تھا کہ کوئی شخص اپنی جائیداد میں سے کھجور النَّخْلَةَ وَالنَّخْلَتَيْنِ۔ وَقَالَ يَزِيدُ عَنْ کا ایک یا دو درخت کسی شخص کو مستعار دے دیتا ہے۔ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنِ الْعَرَايَا نَخْلٌ كَانَتْ اور یزید نے سفیان بن حسین سے نقل کیا ہے کہ عرایا وہ کیا جائے۔ اور ابن اسحاق نے اپنی روایت نافع سے، تُرْهَبُ لِلْمَسَاكِينِ فَلَا يَسْتَطِيعُوْنَ أَنْ کھجوروں کے درخت ہیں جو مسکینوں کو مفت دیئے جاتے اور وہ ان کی پختگی کا انتظار نہ کرتے اور انہیں يَنْتَظِرُوا بِهَا فَرُخّصَ لَهُمْ أَنْ يَبِيعُوهَا اجازت دی گئی کہ وہ انہیں خشک کھجوروں کے بدلے بِمَا شَاءُوْا مِنَ التَّمْرِ۔ میں جتنی مقدار سے چاہیں بیچ دیں۔ ۲۱۹۲: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِل ۲۱۹۲ محمد بن مقاتل نے ہم سے یہ بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسَى عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن عقبہ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ نے ہمیں خبر دی ۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے