صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 156
صحيح البخاری جلدم ۱۵۶ ۳۴- كتاب البيوع وَبَيْعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُم: بابے کی روایت نمبر ۲۱۷۵ میں كَيْفَ شِئْتُم جو آیا ہے، اس سے یہ مراد نہیں کہ بغیر شرعی حدود مد نظر رکھے سونے چاندی کے مبادلے میں کمی بیشی کی جیسی صورت بھی چاہو، اختیار کر لو۔شرعی حدود واضح ہیں۔مبادلہ اُدھار نہ ہو اور مبادلہ کمی بیشی بداية المجتهد، كتاب الصرف، جز ۲ صفحه ۱۴۶) بَيْعُ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ يَدًا بِيَدٍ : باب ۸۱ کے عنوان میں الفاظ يَدًا بید دست بدست کا تعلق مبادلہ زر سے ہے، نہ مبادلہ اشیاء بالاشیاء سے۔اس تعلق میں روایت نمبر ۲۱۷۸،۲۱۷۵ بھی دیکھئے۔رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا : حضرت زید بن ثابت سے مروی یہ الفاظ جور وایت نمبر ۲۱۸۴ میں بسند سالم منقول ہیں، یہی روایت نمبر ۲۱۷۳ نیز نمبر ۲۱۸۸ میں بسند نافع بھی آئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ عرایا کے بیچ کی پہلے اجازت نہ تھی۔بعد کو ضرورت پیش آنے پر اجازت دی گئی جو استثنائی صورت ہے اور یہ اجازت بھی غرباء ہی سے مخصوص ہے جو از قبیل صدقات ہے۔فِى خَمْسَةِ اَوْسُقِ اَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقِ یعنی پانچ وسق (ساتھ صاع) یا اس سے کم تک عرایا کا پھل مبادلے میں لیا دیا جا سکتا ہے۔اس بارہ میں ائمہ کے درمیان ایک اختلاف ہے جس کا تعلق مذکورہ بالا الفاظ کی تاویل سے ہے۔بعض کے نزدیک اس سے زیادہ مقدار میں عرایا کا مبادلہ درست نہیں۔کیونکہ اس قدر اناج ایک کنبہ کی ضرورت کے لئے کافی ہوتا ہے۔امام مالک کے نزدیک زیادہ سے زیادہ پانچ وسق اور امام شافعی کے نزدیک پانچ وسق تک یعنی اس سے کم مقدار میں حسب ضرورت پھل پکنے سے قبل عرایا لئے دیئے جاسکتے ہیں۔کیونکہ اصلی حکم مزابنہ کی پابندی جہاں تک ممکن ہے ضروری ہے۔امام شافعی و امام احمد بن حنبل نے حضرت جابڑ کی ایک اور روایت بسند محمد بن يحي بن حبان بواسطہ واسع بن حبان نقل کی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں : عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ الله حِيْنَ أذِنَ لِاَصْحَابِ الْعَرَايَا أَنْ يُبِيْعُوهَا بِخَرْصِهَا يَقُولُ الْوَسَقَ وَالْوَسَقَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْاَرْبَعَةَ۔(مسند احمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد الله جزء ۳۰ صفحه ۳۶۰) یعنی حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب آپ نے عرایا والوں کو اندازے پر بیچنے کی اجازت دی، یہ فرماتے سنا کہ ایک دو تین چار وسق مبادلے میں لئے دیئے جاسکتے ہیں۔حضرت سہل بن ابی حشمہ کی روایت میں تین چار پانچ وسق بیان ہوئے ہیں۔( فتح الباری جز به صفحه ۴۹۰-۴۹۱) (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۳۰۳) عنوان باب ۸۴ کے ساتھ انہی کی روایت درج کی گئی ہے۔اس روایت سے امام مالک کے فتویٰ کی تائید ہوتی ہے کہ پانچ وسق مذکورہ بالا اجازت میں شامل ہیں۔امام شافعی کے فتویٰ میں احتیاط کا پہلو محفوظ ہے اور مالک کے فتویٰ میں زیادہ سے زیادہ ضرورت کا پورا کرنا مد نظر ہے جو کسی بڑے سے بڑے کنبے کے لئے یہ مقدار کافی ہو سکتی ہے۔دونوں کا نقطہ نظر اپنی اپنی جگہ قابل قدر ہے۔مزابنہ اور محاقلہ کے تعلق میں ملاحظہ ہو تشریح باب ۹۳۔