صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 155
صحيح البخاری جلدم ۱۵۵ ۳۴- كتاب البيوع پر ربا کا اطلاق ہو سکتا ہے اور یہ وہ چار اجناس ہیں جن کا مذکورہ ابواب میں ذکر ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک جنس کی اشیاء کا مبادلہ اگر کم و بیش وزن سے ہو تو وزن کا فرق سود ہوگا جو بموجب نص صریح حرام ہے، قطع نظر اس سے کہ اشیاء خوردنی ہوں یا غیر خوردنی۔امام شافعی کے نزدیک مبادلہ اشیاء میں حرمت کی علت ممنی ہے یعنی قیمت کا فرق ہے۔قیمت سے مراد قوت خرید ہے۔امام شافعی کا مذہب پہلے امام مالک کی رائے کے مطابق تھا مگر آخر میں انہوں نے اپنی رائے تبدیل کی اور فتویٰ دیا کہ تمام اجناس خوردنی جو قابل وزن ہوں یا نہ ہوں ، ان کے سیم وزر کے مبادلے میں زیادتی ربا ہوگی جو ناجائز ہے اور اس مبادلے میں عدم جواز کی علت منی ہے کہ یہ سیم وزر در اصل ذریعہ مبادلہ ہیں اور ان کے معیار پر مبادلہ اشیاء کا اعتبار ہوگا۔فقہاء کی رائے میں جو اختلاف ابھی بیان کیا گیا ہے۔وہ اس لئے قابل قدر ہے کہ اسلام نے مبادلہ اشیاء میں لوگوں کے لئے انتہائی صورت پیدا کی ہے اور معاشرہ اسلامیہ کے افراد کو یہ اجازت نہیں دی کہ ان میں سے کوئی دوسرے کی کمزوری سے ناجائز فائدہ اُٹھائے۔ایک ملک سے بذریعہ سٹرلنگ ایک شئے مثلاً دوائی مل سکتی ہے اور دوسرے ملک میں دینار یا اشرفی کا رواج ہے تو اسلامی تعلیم کی رُو سے ان میں مبادلہ بالمثل ہوگا یعنی از روئے قیمت زر۔اس میں زیادتی کا مطالبہ در اصل مبادلہ اشیاء کی راہ میں روک بن جاتا ہے۔امیر تو ڈ گنے دے کر بھی دوائی خرید سکتا ہے مگر ایک غریب جس کے پاس صرف ایک ہی اشرفی ہے، وہ اپنی اشرفی کا سٹرلنگ سے مبادلہ بالمثل تو کر سکتا ہے لیکن اس سے زیادہ شرح سے لینا اس کے لیے روک پیدا کرتا ہے۔سٹرلنگ والا یہ دیکھ کر کہ فلاں ملک کا باشندہ مطلوبہ دوائی خریدنے پر مجبور ہے تو اس کا ایک سٹرلنگ کے عوض میں دو اشرفیوں کا مطالبہ اسلام کی تعلیم کی رو سے ناجائز ہے۔اسی طرح ایک جنس کا اسی جنس سے مبادلہ زیادتی کے ساتھ بھی حرام کیا گیا ہے بلکہ ملی جلی گندم یا کھجور کی ادنی او اعلیٰ قسم مخلوط صورت میں بھی منع ہے۔ہر نوعیت کی جنس اپنے اصلی نرخ پر بیچ کر مطلوبہ اعلیٰ جنس الگ خریدی جائے کیونکہ ایسے مبادلہ اشیاء میں نقصان کا احتمال نہیں رہتا۔مذکورہ بالا تین اصولی امور مبادلہ جنس ونقد میں ملحوظ رکھنے ضروری ہیں۔انہی کا ذکر ان سات ابواب ( نمبر۷ ۷ تا ۸۳ ) میں ہوا ہے۔لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ : صرف اُدھار ہی میں سود ہوگا۔سود کی تعریف یہ ہے کہ کوئی شئے ایک مقررہ وقت کے لئے ایک مقررہ شرح نفع پر لی دی جائے۔اگر شرح نفع اور میعاد معین نہیں تو ایسا لین دین سودی نہ ہوگا۔مثلاً ایک شخص نے پانچ ہزار روپیہ تجارت کے لئے کسی کو دیا ہو۔یہ میعادی قرضے کے طور پر نہ ہو اور نہ اس پر کوئی شرح مقرر کی گئی ہو اور کاروبار کرنے والے کے ساتھ یہ ٹھہرائے کہ نفع ایک تہائی یا نصف اس سے لے گا تو یہ ایک قسم کی شرکت ہے۔اس کا نفع سود نہیں کیونکہ مدت و شرح معین نہیں۔ارشاد نبوی لَا رِبًا إِلَّا فِي النَّسِيئَةِ (روایت نمبر ۲۱۷۸-۲۱۷۹) سے یہی مراد ہے۔