صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 154
صحيح البخاری جلدم ۱۵۴ ۳۴- كتاب البيوع اور تشریح باب ۷ ۷ تا ۸۳: بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ: سیسات ابواب ایک ہی مضمون کے تسلسل میں ہیں۔اس لیے ان کی تشریح اکٹھی کی گئی ہے۔انہیں سمجھنے کے لئے اصولی طور پر تین باتیں یاد رکھنی چاہئیں۔اول یہ کہ مبادلہ سیم وزر میں کسی سکے کی قیمت اس بناء پر قرار پاتی ہے کہ اس میں سونے چاندی کی مقدار کتنی ہے اور تانے وغیرہ کی آمیزش کتنی۔اس معیار پر سکے کی قوت خرید میں کمی بیشی ہوگی اور ایک سکے کا دوسرے سکے سے مبادلے کا فیصلہ ہوگا یا اس کے ذریعے سے دوسری اشیاء کا لین دین قرار پائے گا۔مبادلہ میں جو امر قابل اعتبار ہے وہ خالص سونے یا چاندی کی اصل مقدار ہے۔جس سے اس کی قیمت بالفاظ دیگر قوت خرید کا تعین ہوتا ہے اور وہ بڑھتی یا گھٹتی ہے۔صرافہ کا کاروبار ہمارے زمانہ میں بلحاظ تنظیم اور وسعت ترقی یافتہ ہے اور روزانہ بذریعہ اخبارات نرخوں کا اعلان ہوتا رہتا ہے کہ فلاں مارکیٹ میں نرخ یہ ہے اور فلاں مارکیٹ میں یہ۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرافہ اس طرح منظم اور وسیع طریق پر نہ تھا مگر عرب کی منڈیوں میں رومی ، ایرانی اور مصری وغیرہ سکے بصورت درہم و دینار رائج تھے اور ان کا ایک دوسرے سے مبادلہ ہوتا تھا۔جسے عربی میں صرف کہتے ہیں اور اسی لفظ سے صراف اور صرافہ ہے۔دوسرا امر اس تعلق میں مد نظر رکھنے کے قابل یہ ہے کہ فقہاء نے مبادلہ اشیاء کی چار قسمیں بیان کی ہیں۔پہلی قسم : ہم جنس اشیاء کا ماپ تول کر نقد لین دین۔دوسری قسم : ایک جنس کا غیر جنس سے مبادلہ۔مثلاً گندم کا جو سے ، تازہ کھجور کا خشک کھجور سے، دینار کا در ہم سے۔تیسری قسم مبادلہ اشیاء بذریعہ قیمت بصورت نقدی۔چوتھی قسم : ایک جنس کا دوسری جنس کے عوض میں لین دین۔یہ چاروں صورتیں اگر دست بدست ہوں تو ایسا مبادلہ جائز ہے اور اگر ان میں سے سیم وزر کا مبادلہ نقد نہ ہو بلکہ اُدھار پر ہو تو یہ نا جائز ہے۔لیکن باقی اشیاء کے مبادلہ میں اگر چیز لی جائے اور قیمت بعد میں دی جائے یا قیمت پہلے دی جائے اور چیز بعد میں لی جائے تو ایسا لین دین بھی جائز ہے۔کسی شئے کی وصولی اور قیمت دونوں کی ادائیگی بعد میں ہو تو یہ صورت نا جائز ہے، بجز اس کے کہ بذریعہ چیک یا ہنڈی ہو، جسے عربی میں حوالہ کہتے ہیں۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۴۸۳) تیسرا امر جو مبادلہ اشیاء کے تعلق میں قابل ذکر ہے ، وہ شرعی حلت و حرمت کی علت ہے۔اس بارہ میں مختلف آئمہ نے مختلف آراء کا ذکر کیا ہے اور ہر رائے اپنی جگہ وزنی اور قابل قدر ہے۔مثلاً حضرت ابوبکر کے نزدیک حرمت کی علت خوردنی اشیاء کی ضرورت اور طلب ہے کہ ان کا ہر شخص محتاج ہے۔ان میں رہا یعنی زیادتی جائز نہیں۔امام مالک کی بھی یہی رائے ہے ، مگر صرف اس قید کے ساتھ کہ خوردنی اشیاء جو ماپی تولی جاسکیں اور قابل ذخیرہ ہوں۔ان میں بوقت مبادلہ زیادتی جائز نہیں۔از قسم پھل وغیرہ جو اشیائے خوردنی تلف ہو جانے والی ہیں، ان کے مبادلے میں کمی بیشی سود نہیں کہلائے گی۔امام احمد بن حنبل نے صرف چار اجناس خوردنی کو ربویات میں شمار کیا ہے۔یعنی ایسی اشیاء جن کے مبادلہ