صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 153
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۵۳ ۳۴- كتاب البيوع فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِي خَمْسَةِ أَوْ سُقٍ أَوْ خرید و فروخت بابت پانچ وسق یا پانچ وسق سے کم کی دُوْنَ خَمْسَةِ أَوْ سُقٍ قَالَ نَعَمْ۔ اجازت دی ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ طرفه: ۲۳۸۲ ۲۱۹۱ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۱۹۱: علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا ، کہا کہ یحی بن سعید کہتے تھے : سَمِعْتُ بُشَيْرًا قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ میں نے بشیر ( بن یسار ) سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله نے حضرت سہل بن ابی حمہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کے بدلے میں (کھجور کا )۔ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ عَليه وسلم۔ تازه پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ البتہ عریہ کے بارہ میں وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا اجازت دی کہ اندازہ سے اسے بیچا جائے، تا عر یہ والے يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً اس کی تازہ کھجوریں کھائیں۔ اور سفیان نے دوسری بار أُخْرَى إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَبِيعُهَا یہ کہا: آپ نے عربیہ کے بارہ میں اجازت دی کہ اس أَهْلُهَا بِخَرْصِهَا يَأْكُلُوْنَهَا رُطَبًا قَالَ کے مالک اندازہ کر کے اسے بیچیں، تازہ کھجوریں کھائیں۔ هُوَ سَوَاءٌ قَالَ سُفْيَانُ فَقُلْتُ لِيَحْيَى (سفیان نے) کہا: دونوں باتیں ایک ہیں۔ سفیان نے وَأَنَا غُلَامٌ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَقُوْلُوْنَ إِنَّ کہا: میں نے کی سے پوچھا اور میں اس وقت نوجوان النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ تھا کہ مکہ والے کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عرایا کی بیع کے بارے میں اجازت دی ہے تو (یحی نے) لَهُمْ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فَقَالَ وَمَا يُدْرِي کہا: مکہ والوں کو کیسے علم ہوا؟ میں نے کہا: وہ حضرت جابر أَهْلَ مَكَّةَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَرْوُوْنَهُ عَنْ جَابِرٍ سے روایت کرتے ہیں ۔ تب وہ چپ ہو رہے ۔ سفیان فَسَكَتَ۔ قَالَ سُفْيَانُ إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنَّ نے کہا: میری مراد صرف یہی تھی کہ حضرت جابر مدینہ جَابِرًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قِيْلَ لِسُفْيَانَ والوں میں سے ہیں۔ سفیان بن عیینہ ) سے کہا گیا: أَلَيْسَ فِيْهِ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّی کیا اس روایت میں یہ نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے يَبْدُو صَلَاحُهُ قَالَ لَا ۔ طرفه: ٢٣٨٤۔ صلى الله پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے تا وقتیکہ اس کی پختگی پورے طور پر ظاہر ہو جائے؟ کہا: نہیں۔