صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page xviii
صحيح البخاری جلدم باب : كَيْفَ تُعَرَّفُ لُقَطَةٌ اَهْلِ مَكَّةَ۔XV فهر اہل مکہ کی گری پڑی چیز کیسے شناخت کرائی جائے؟۔باب : لا تُحْتَلَبُ مَاشِيَةُ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ۔کسی کے مویشی بغیر اس کی اجازت کے نہ دو ہے جائیں ۴۳۷ باب ٩ : إِذَا جَاءَ صَاحِبُ اللُّقَطَةِ بَعْدَ سَنَةٍ رَدَّهَا اگر گری پڑی چیز کا مالک ایک سال کے بعد آئے تو وہ اُس عَلَيْهِ لِأَنَّهَا وَدِيعَةٌ عِنْدَهُ چیز کو اُسے واپس دیدے کیونکہ وہ اس کے پاس امانت تھی ۴۳۸ باب ١٠ : هَلْ يَأْخُذُ اللُّقَطَةَ وَلَا يَدَعُهَا تَضِيعُ کیا گری پڑی چیز کو اٹھا لیں اور اُسے ضائع نہ ہونے دیں ۴۳۹ باب || : مَنْ عَرَّفَ اللُّقَطَةَ وَلَمْ يَدْفَعُهَا إِلَى جس نے گری پڑی چیز اٹھا کر شناخت کرائی اور وہ حاکم السُّلْطَان۔فِي الْمَظَالِمِ وَالْعَصْبِ باب ا : قِصَاصُ الْمَظَالِم کے سپرد نہ کی -٤ - كِتَابُ الْمَظَالِم المهم تم نهم ظلم و غصب سے متعلق (احکام ) ظلموں کا بدلہ ممم باب ۲: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى ألا لعنة الله عَلَی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ہوشیار رہو، ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لَعْنَةُ لعنت ہوا کرتی ہے الظَّالِمِينَ باب : لَا يَظْلِمُ الْمُسْلِمُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُسْلِمُهُ مسلمان مسلمان پرظلم نہیں کرتا اور نہ اسے (کسی ظالم کے) باب : أَعِنُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا باب ۵ : نَصْرُ الْمَظْلُوم باب ٦ : الْإِنتِصَارُ مِنَ الظَّالِم باب: عَفُرُ الْمَظْلُوم باب : الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔سپرد کرتا ہے۔۔اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مظلوم کی مدد کرنا ظالم سے بدلہ لینا۔مظلوم کا معاف کر دینا۔ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔باب 9 : الاتِّقَاءُ وَالْحَذَرُ مِنْ دَعْوَةِ الْمَظْلُوم مظلوم کی فریاد سے ڈرنا اور بیچنا باب ١٠ : مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ عِنْدَ الرَّجُلِ فَحَلَّلَها جس شخص کو کسی شخص کے ظلم کا شکوہ ہے اور ظالم اپنے ظلم کی لَهُ هَلْ يُبَيِّنُ مَظْلَمَتَهُ باب اا : إِذَا حَلَّلَهُ مِنْ ظُلْمِهِ فَلَا رُجُوعَ فِيْهِ۔| | مريم م ۴۵۱ ۴۵۳ ۴۵۴ ۴۵۶ ۴۵۷ ۴۵۹ ۴۵۹ معافی لے لے تو کیا مظلوم اس کے ظلم کو بیان کر سکتا ہے؟ ۴۶۰ مظلوم ظالم کو اس سے ظلم کی معافی دیدے تو پھر وہ اس سے رجوع نہیں کر سکتا۔