صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 149
صحيح البخاري - جلد ۴ ۱۴۹ ۳۴- كتاب البيوع حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ سَمِعْتُ نے مجھے خبر دی، کہا کہ ابوالمنہال سے میں نے سنا۔ أَبَا الْمِنْهَالِ قَالَ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت براء بن عازب اور عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہم سے صرافی کی بابت عَنِ الصَّرْفِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا يَقُوْلُ پوچھا تو دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کے متعلق هَذَا خَيْرٌ مِنِّي فَكِلَاهُمَا يَقُوْلُ نَهَى کہتا کہ یہ مجھ سے بہتر ہیں اور وہ دونوں کہتے تھے کہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کو چاندی کے بَيْعِ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ دَيْنًا ۔ بدلے قرض پر بیچنا منع فرمایا ہے۔ اطرافه: ٢٠٦٠-٢٠٦١، ٢٤٩٧ - ٢٤٩٨، 3939-3940۔ بَاب ۸۱ : بَيْعُ الذَّهَبِ بِالْوَرِقِ يَدًا بِيَدِ سونا چاندی کے بدلے میں دست بدست بیچنا ۲۱۸۲ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ :۲۱۸۲ عمران بن میسرہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عباد بن عوام نے ہمیں بتایا بتایا کہ کی بن ابی اسحاق نے ابْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ہمیں خبر دی کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اپنے باپ ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ (حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ نے چاندی چاندی کے بدلے اور سونا سونے کے إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَأَمَرَنَا أَنْ تَبْتَاعَ بدلے لینے دینے سے روکا ہے بجز اس کے کہ برابر الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا وَالْفِضَّةَ برابر ہو اور آپ نے ہم سے فرمایا کہ سونا، ا کہ سونا چاندی کے بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْنَا ۔ طرفه: ۲۱۷۵ بدلے میں جس طرح چاہیں اور چاندی سونے کے بدلے میں جس طرح چاہیں لیں دیں۔