صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 146
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۶ ۳۴- كتاب البيوع میں سود ہو جائے گا جو حرام ہے۔ مثلاً سونے کی ڈلی یا زیور دے کر اشرفیاں لینا چاہتا ہے تو اس مبادلے میں سونے کے وزن کا اعتبار ہوگا۔ اگر ایک شئے دس تولہ سونا ہے اور دوسری میں ساڑھے نو تولہ تو بصورت مبادلہ نصف تولہ کی زیادتی سود ٹھہرے گی۔ اس ضمن میں اگلا باب بھی دیکھئے۔ بَاب ۷۷ : بَيْعُ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ سونے کے بدلے سونے کا لین دین ٢١٧٥ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۲۱۷۵: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنِي اسماعيل بن علیہ نے ہمیں خبر دی، کہا: يحيی بن ابی يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ اسحاق نے مجھ سے بیان کیا کہ عبدالرحمن بن ابی بکرہ ابْنُ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرَةَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکرہ ( نفیع رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله بن حارث ) رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيْعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ سونا سونے کے بدلے نہ بیچو مگر إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا برابر برابر، اور چاندی کے بدلے چاندی نہ بیچو مگر سَوَاءً بِسَوَاءٍ وَبِيْعُوا الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ برابر برابر، اور سون برابر برابر، اور سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ كَيْفَ شِئْتُمْ۔ کو سونے کے بدلے جس طرح چاہو بیچو۔ طرفه: ۲۱۸۲۔ بَاب ۷۸ : بَيْعُ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ چاندی کے بدلے چاندی کا لین دین ٢١٧٦ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ ۲۱۷۶: عبید اللہ بن سعد ( بن ابراہیم قرشی بغدادی ) حَدَّثَنَا عَمِّي حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ نے ہم سے بیان کیا کہ میرے چچا یعقوب بن ابراہیم) عَنْ عَمِّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا کہ میرے بھتیجے ( محمد بن عبداللہ بن مسلم ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا زُہری نے اپنے چا ( محمد بن مسلم زہری ) سے روایت أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ مِثْلَ کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سالم