صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 145
صحيح البخاری جلدم ۱۴۵ ۳۴- كتاب البيوع قَالَ حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي مِنَ الْغَابَةِ اور سونے کی اشرفیاں لے کر اپنے ہاتھ میں انہیں وَعُمَرُ يَسْمَعُ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ اُلٹنے پلٹنے لگے۔پھر کہا: اس وقت تک انتظار کریں کہ لَا تُفَارِقُهُ حَتَّى تَأْخُذَ مِنْهُ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ میرا خزا چی غابہ سے آ جائے۔اور حضرت عمر یہ سن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ رہے تھے۔تو انہوں نے کہا: بخدا آپ طلحہ سے اس وقت تک جدا نہ ہوں کہ ان سے ریزگاری لے لیں۔بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سونے کا رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيرِ سونے سے مبادلہ سود ہے مگر یہ لو اور یہ دو۔اور گیہوں رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا کا گیہوں سے مبادلہ بھی سود ہے مگر ہاتھوں ہاتھ۔اور جو کا جو سے مبادلہ بھی سود ہے مگر ہاتھوں ہاتھ۔إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ۔اطرافه: ۲۱۳٤، ۲۱۷۰۔اور کھجور کا کھجور سے مبادلہ بھی سود ہے مگر ہاتھوں ہاتھ۔تشریح : بَيْعُ الشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ : باب ذکور میں فقہی اختلاف ہ کے پیش نظر دوسری اجناس جو وغیرہ کے مبادلے کا ذکر کیا گیا ہے۔جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض ائمہ نے سودی اور غیر سودی اجناس کے مبادلہ میں فرق کیا ہے جیسا کہ گذشتہ باب کی تشریح میں ابھی بتایا جا چکا ہے۔امام مالک، لیٹ اور اوزاعی نے گندم اور جو ایک جنس قرار دی ہے۔جمہور کے نزدیک یہ دونوں جنسیں الگ الگ ہیں اور اسی لئے اس جنس کے مبادلے کے تعلق میں الگ باب قائم کیا گیا ہے۔( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۴۷۸) فَتَرَاوَضُنَا : یعنی مبادلہ دینار درہم کی شرح کے بارے میں ہم نے ایک دوسرے سے بات چیت کی۔لفظ تَرَاوَضُنَا رَاضَ يَرُوضُ رَوْضًا وَرِيَاضَةً سے باب تفاعل کا صیغہ ہے۔اس کے معنے ہیں: سدھارنا یا راس کرنا۔(لسان العرب - روض ) ان میں سے ایک نے بتایا کہ دینار میں اتنا خالص سونا ہے اور دوسرے نے بتایا کہ درہم میں اتنی خالص چاندی ہے۔فَاَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِبُهَا ای صرف زر کے تعلق میں حضرت طلحہ اشرفیوں کو الٹ پلٹ کر کے دیکھنے لگے۔حَتَّى اصْطَرَفَ یہاں تک کہ صرف زر کی شرح سے متعلق بات ٹھہر گئی اور حضرت طلحہ نے کہا کہ ان کا خزانچی آ جائے تو مطلوبہ درہم دے دیئے جائیں گے۔حضرت عمر نے جو اُس وقت قریب ہی موجود تھے، فرمایا: یہاں سے جانا نہیں، جب تک نقد یہ نقد نہ لے جاؤ، ورنہ ادھار کی صورت ہو جائے گی جو جائز نہیں۔اس پر مالک بن اوس نے سودا لینا ترک کر دیا۔(عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۹۳) اَلذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ : یعنی سونے کا مبادلہ سونے سے سود ہے۔سوائے اس کے کہ نقد بہ نقد ہو۔علماء کا اتفاق ہے کہ سونا بصورت سکہ، زیور یا دھات ہو؛ اس کا مبادلہ بلحاظ وزن ہوگا۔کمی بیشی کی صورت