صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 144
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۴ ۳۴- كتاب البيوع إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَى : یہ الفاظ شارحین کے نزدیک ہو سکتا ہے کہ ارشاد نبوی کا حصہ ہوں یا حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے یہ کہا ہو۔ باب ۷۴، ۷۵ سے متعلق یہ بات مد نظر رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تجارتی کاروبار کی صورتیں دونوں طرح سے تھیں۔ یعنی مبادلہ اشیاء بالاشیاء جسے آج کل انگریزی اصطلاح میں بارٹر سسٹم (Barter System) کہتے ہیں اور مبادلہ اشیاء بذریعہ سیم وزر، جس کا دوسرا نام صرافہ ہے اور یہ پیشہ اس وقت بھی بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ مبادلہ بالا ہے بالا جناس کے بارہ میں : میں جمہور کا یہ مذہب ہے کہ ہر جنس اپنے نرخ پر علیحدہ فروخت کر کے اس کی قیمت سے وہی جنس یا اس کے علاوہ کوئی اور جنس اعلیٰ یا ادنی قسم کی خریدی جائے کیونکہ یہ صورت بیچ زیادہ محفوظ ہے۔ ایک ہی جنس کی ایک قسم کا مبادلہ اسی قسم سے منع ہے ۔ لَا مُتَمَائِلًا وَلَا مُتَفَاضِلا ۔ نہ برابر وزن سے اور نہ کم و بیش ۔ امام ابو حنیفہ نے اناج خشک پھل تازہ پھل سے، اناج کی کھڑی فصل سے مبادلہ بالفعل جائز قرار دیا ہے۔ لیکن اگر مبادلے میں وزن کی زیادتی ہو تو ان کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ فقہاء کے اس اختلاف کے پیش نظر چند باب قائم کر کے مستند احادیث سے۔ سے صورت جواز یا عدم جواز واضح کی گئی ہے اور اسی و ہے اور اسی وضاحت کی غرض ۔ ا سے روایت نمبر ۲۱۷۳ میں حضرت زید بن ثابت انصاری کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے جو عرایا کے بارے میں ہے۔ عَرِيَّة کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جس کا پھل بطور عطیہ یا صدقہ کسی کو دیا جائے اور اگر لینے والا اس کی نگرانی نہ کر سکے اور اسے خوراک کی فوری ضرورت ہو تو غریة کے بدلے میں خشک کھجور اندازہ کر کے لے سکتا ہے۔ یہ ایک استثنائی صورت ہے اور اس اجازت سے ظاہر ہے کہ باقی صورتیں جائز نہیں۔ اس حوالے سے بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کے مذہب کی تائید کی ہے اور یہی مذہب امامین محمد اور ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہما کا بھی ہے۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۹۰ تا ۲۹۲) یہاں مزابنہ اور عرایا کا ذکر ضمنا بطور استدلال و وضاحت کیا گیا ہے۔ آئندہ ابواب میں ان دونوں کا ذکر آئے گا۔ دیکھئے باب ۸۴،۸۲ ۔ باب ٧٦ : بَيْعُ الشَّعِيْرِ بِالشَّعِيرِ جو کے بدلے جو کی بیع ٢١٧٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۲۱۷۴ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابن شہاب سے، مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ ابن شہاب نے مالک بن اوس سے روایت کی کہ انہوں صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ نے ایک سو دینار کی ریز گاری طلب کی تو حضرت طلحہ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ بن عبید اللہ نے مجھے بلایا اور ہم نے نرخ کے بارے مِنِّي فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ میں تکرار کی ۔ آخر وہ ریزگاری دینے پر راضی ہو گئے