صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 144 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 144

صحيح البخاری جلدم ۱۴۴ ۳۴- كتاب البيوع اِنْ زَادَ فَلِيُّ وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَى : یہ الفاظ شارحین کے نزدیک ہوسکتا ہے کہ ارشاد نبوی کا حصہ ہوں یا حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے یہ کہا ہو۔باب ۷۴، ۷۵ سے متعلق یہ بات مدنظر رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تجارتی کاروبار کی صورتیں دونوں طرح سے تھیں۔یعنی مبادلہ اشیاء بالاشیاء جسے آج کل انگریزی اصطلاح میں بارٹر سسٹم (Barter System) کہتے ہیں اور مبادلہ اشیاء بذریعہ سیم وزر، جس کا دوسرا نام صرافہ ہے اور یہ پیشہ اس وقت بھی بہت بڑی اہمیت رکھتا تھا۔مبادلہ بالا جناس کے بارہ میں جمہور کا یہ مذہب ہے کہ ہر جنس اپنے نرخ پر علیحدہ فروخت کر کے اس کی قیمت سے وہی جنس یا اس کے علاوہ کوئی اور جنس اعلیٰ یا ادنیٰ قسم کی خریدی جائے کیونکہ یہ صورت بیچ زیادہ محفوظ ہے۔ایک ہی جنس کی ایک قسم کا مبادلہ اس قسم سے منع ہے۔لَا مُتَمَائِلًا وَلَا مُتَفَاضِلًا۔نہ برابر وزن سے اور نہ کم و بیش۔امام ابو حنیفہ نے اناج خشک پھل تازہ پھل سے، اناج کی کھڑی فصل سے مبادلہ بالفعل جائز قرار دیا ہے۔لیکن اگر مبادلے میں وزن کی زیادتی ہو تو ان کے نزدیک یہ جائز نہیں۔فقہاء کے اس اختلاف کے پیش نظر چند باب قائم کر کے مستند احادیث سے صورتِ جواز یا عدم جواز واضح کی گئی ہے اور اسی وضاحت کی غرض سے روایت نمبر ۲۱۷۳ میں حضرت زید بن ثابت انصاری کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے جو عرایا کے بارے میں ہے۔عربة کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جس کا پھل بطور عطیہ یا صدقہ کسی کو دیا جائے اور اگر لینے والا اس کی نگرانی نہ کر سکے اور اسے خوراک کی فوری ضرورت ہو تو عرية کے بدلے میں خشک کھجور اندازہ کر کے لے سکتا ہے۔یہ ایک استثنائی صورت ہے اور اس اجازت سے ظاہر ہے کہ باقی صورتیں جائز نہیں۔اس حوالے سے بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جمہور کے مذہب کی تائید کی ہے اور یہی مذہب امامین محمد اور ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہا کا بھی ہے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۹۰ تا ۲۹۲) یہاں مزابنہ اور عرایا کا ذکر ضمنا بطور استدلال و وضاحت کیا گیا ہے۔آئندہ ابواب میں ان دونوں کا ذکر آئے گا۔دیکھئے باب ۸۴۸۲۔باب ٧٦ : بَيْعُ الشَّعِيْرِ بِالشَّعِيْرِ جو کے بدلے جو کی بیع ٢١٧٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۷۴: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب سے، مَّالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَمَسَ ابن شہاب نے مالک بن اوس سے روایت کی کہ انہوں صَرْفًا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ نے ایک سو دینار کی ریز گاری طلب کی تو حضرت طلحہ عُبَيْدِ اللَّهِ فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ بن عبید اللہ نے مجھے بلایا اور ہم نے نرخ کے بارے فَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ ثُمَّ میں تکرار کی۔آخر وہ ریزگاری دینے پر راضی ہو گئے مني