صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 143 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 143

صحيح البخاری جلدم ۳۴- كتاب البيوع تشريح بَيْعُ الزَّبَيْبِ بِالزَّبِيْبِ وَالطَّعَامُ بِالطَّعَام : اس باب کے تعلق میں تشریح باب ۸۲ بھی دیکھئے جہاں حضرت عبد اللہ بن عمر کی یہی روایت مفصل درج ہے۔مندرجہ بالا حدیث میں صرف مزابنہ کی ممانعت کا ذکر ہے، نہ اناج کا اور نہ زبیب یعنی منقہ کا۔لیکن عنوان باب میں اَلطَّعَامُ بِالطَّعَامِ اور الرَّبِيبُ بِالنَّبِيِّبِ کے الفاظ ہیں۔بعض شارحین نے یہ تصرف قابل اعتراض سمجھا ہے (دیکھئے عمدۃ القاری جز ءا صفحه ۲۹۰) مگر علامہ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ نے بتایا ہے کہ نافع کی اس روایت میں جو بسند لیٹ آئی ہے، لفظ الطعام مذکور ہے۔(روایت نمبر ۲۲۰۵) امام مسلم نے اس بارہ میں حضرت معمر بن عبد اللہ کی جو مرفوع روایت نقل کی ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں : الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثَلًا بِمِثْل (مسلم، كتاب المساقاة، باب بيع الطعام مثلا بمثل ان روایتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے عنوانِ باب مذکورہ بالا الفاظ سے باندھا گیا ہے۔یعنی اناج کے عوض اناج کا مبادلہ برابر وزن میں ممنوع ہے کہ اس میں بوجہ نرخ کی کمی بیشی ہونے کے سود کا احتمال ہے۔نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ : زَبَنَ يَرْبُنُ زَيْنا کے لغوی معنی ہیں: دَفَع یعنی دھکیلنا۔(النهاية-زبن) بائع اور مشتری میں سے ہر ایک دوسرے کو اس کے حق سے ہٹا کر نقصان کی طرف دھکیلتا ہے۔امام مالک نے مزابنہ کی یہ تعریف کی ہے : أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِّنَ الْجِزَافِ الَّذِى لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلَا وَزُتُهُ وَلَا عَدَدَهُ۔مؤطا امام مالک، کتاب البیوع، باب ما جاء في المزابنة والمحاقلة) یعنی تجارتی کاروبار جس میں دھوکا فریب کا احتمال ہو اور جس میں اندازہ نہ ہو، بغیر ماپ تول اور شمار کے سودا چکایا جائے۔ایسی بیچ مزابنہ کہلاتی ہے۔اس میں نقصان اُٹھانے والا سود ا فسخ کرنا چاہتا ہے مگر فائدہ اُٹھانے والا مسح نہیں کرتا۔فَيَتَزَابَنَانِ عَلَيْهِ أَن يَتَدَا فَعَان یعنی بائع اور مشتری سامان ایک دوسرے کی طرف پھینکتے ہیں۔امام شافعی نے مزابنہ کی تعریف یہ کی ہے : هُوَ بَیعُ مَجْهُولٍ بِمَجْهُولٍ أَوْ مَعْلُومٍ مِنْ جِئْسٍ تَحْرِيمُ الرِّبَا فِی نَقْدِهِ۔یعنی ایک غیر معلوم شئے کو غیر معلوم شئے کے عوض بیچنا، یا ایسی شئے کے عوض بیچنا جو نقدی سود کی نوعیت سے ہو۔یعنی زیادتی کے ساتھ نقد لین دین جو حرام ہے۔امام مالک نے مزابنہ کی اس تعریف میں ان کے ساتھ اتفاق کیا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ لفظ گیل یعنی ماپنے کی تخصیص بلا ضرورت ہے۔یعنی قطع نظر اس سے کہ دم نقد سود والی جنس سے ہو یا نہ ہو، جب وہ بیچ ماپ تول میں غیر معین ہوگی، مزابنہ کہلائے گی اور اس کے لئے یہ بھی شرط نہیں کہ خرید و فروخت خوردنی اشیاء کی ہو یا غیر خوردنی اشیاء کی۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۹۰) بَيْعُ الثَّمَر بالتّمُر كَيْلا : کھجور کے تازہ پھل کے بدلے خشک کھجور بیچنے سے مراد یہ ہے کہ درخت پر تازہ کھجور کا پھل خشک کھجور کے بدلے معین ماپ تول کے ساتھ اس شرط پر بیچنا کہ اگر درخت کا پھل اس وزن سے بڑھ جائے تو وہ بڑھوتی بائع کی اور اگر کم ہو تو کمی کی ذمہ واری بھی بائع پر۔اس شرط کے ساتھ منقہ معین وزن سے انگور کے تازہ پھل کے بدلے جو بیلوں پر ہوں۔نیز کھڑی گندم وغیرہ کا اناج سے مبادلہ کرنا۔بیچ وشراء کی ایسی تمام صورتیں مزابنہ کی ہیں۔جیسا کہ اس باب کی روایات میں تصریح ہے۔