صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 142
صحيح البخاری جلدم ۱۴۲ ۳۴- كتاب البيوع تشریح : اَلتّمُرُ بِالتَّمْرِ : اس باب کے تعلق میں تشریح باب ۸۲ بھی دیکھئے، جہاں کھجور کے بدلے کھجور کی بیع کا ذکر ہے۔ہر جنس و نوع اپنے نرخ پر علیحدہ فروخت کر کے دوسری جنس اور نوع اس کے اپنے نرخ پر بیچی اور خریدی جائے تا کمی بیشی اور دھوکا فریب کا احتمال نہ رہے۔اس تعلق میں باب ۵۴ و باب ۷۵، ۷۶ بھی دیکھئے۔بَاب ٧٥ : بَيْعُ الزَّبِيْبِ بِالزَّبِيْبِ وَالطَّعَامُ بِالطَّعَامِ منتقے کی بیع منقے کے بدلے میں اور اناج کی بیج اناج کے بدلے میں ۲۱۷۱: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي :۲۱۷۱ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ نَافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ صلى اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازے پھل کے بدلے خشک کھجور ماپ کر نیچی جائے اور منفقہ ان انگوروں کے بدلے جو وَبَيْعُ الرَّبِيْبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا۔وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا اطرافه: ۲۱۷۲، ۲۱۸۵، ۲۲۰۵ بیل پر ہیں، ماپ کر بیچا جائے۔۲۱۷۲ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۲۱۷۲ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَّافِعِ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب (سختیانی) سے، ایوب ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ فرمایا ہے۔حضرت عبداللہ نے کہا کہ مزابنہ یہ ہے کہ الْمُزَابَنَةِ۔قَالَ وَ الْمُزَابَنَةُ أَنْ تَشِيعَ الثَّمَرَ درخت پر (کھجور کا) میوه خشک (پختہ ) میوے کے بِكَيْلٍ إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَّقَصَ فَعَلَيَّ بدلے میں ماپ کر اس شرط پر بیچا جائے ، اگر بڑھ گیا اطرافه ۲۱۷۱، ۲۱۸۵، ۲۲۰۵۔تو میرا ہوگا اور اگر کم ہوا تو اس کا نقصان مجھ پر ہے۔۲۱۷۳: قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ۲۱۷۳: حضرت عبد اللہ بن عمر نے ) کہا کہ حضرت أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ زید بن ثابت نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دی ہے کہ اندازہ سے ان کو بیچ دیا فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا۔اطرافه ۲۱۸٤، ۲۱۸۸، ۲۱۹۲، ۲۳۸۰ جائے۔