صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 141
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۱ ۳۴- كتاب البيوع أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً کی کہ حضرت عائشہ ام المومنین نے ایک لونڈی خرید نی فَتَعْتِقَهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيْعُكِهَا عَلَى أَنَّ چاہی تاکہ اسے آزاد کریں؛ تو اس کے مالکوں نے کہا: وَلَاءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ ہم اسے آپ کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کرتے ہیں کہ اس کا ترکہ ہمارا ہو۔ حضرت عائشہ نے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُكِ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔ یہ بات تمہیں (ترکہ لینے سے) روک نہیں سکتی۔ کیونکہ تر کہ تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔ اطرافه: ٢١٥٦ ، ٢٥٦٢، ٦٧٥٢، 6757، 6759۔ تشريح : إِذَا اشْتَرَطَ شُرُوطًا فِي الْبَيْعِ لَا تَحِلُّ: اس باب اور حدیث مندرجہ ذ مندرجہ ذیل سے سابقہ باب کے مضمون کی تائید مزید ہے کہ جس خرید و فروخت میں شریعت کی قائم کردہ شرطوں کی خلاف ورزی ہو، وہ دو صورتوں سے خالی نہیں ۔ اول یہ کہ بیچ تو قائم رہے گی مگر شرط چونکہ باطل ہے، اس لئے از خود ساقط ہو جائے گی۔ دوم اگر مالک کو اپنی شرط پر اصرار ہو تو وہ بیچ قابل فتح اور رڈ ہوگی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۸۸، ۲۸۹۔ اس مضمون سے متعلق مزید دیکھئے: کتاب الشروط باب ۱۰۔ باب ٧٤ : بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ کھجور کے بدلے کھجور بیچنا ۲۱۷۰: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۲۱۷۰: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا۔ لیث نے اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِكِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب ابْنِ أَوْسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نے مالک بن اوس سے روایت کی۔ انہوں نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عمر رضی اللہ عنہا کو بیصلی اللہ علیہ سلم سے روایت کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا: گیہوں کے الْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ بدلے گیہوں سود ہے مگر یہ لو یہ دو۔ اور جو کے بدلے بِالشَّعِيْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ جو سود ہے مگر یہ لو یہ دو۔ اور کھجور کے بدلے کھجور سود بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ۔ اطرافه: ٢١٣٤، ٢١٧٤۔ ہے مگر یہ لو یہ دو۔ (یعنی ہاتھوں ہاتھ نقد بہ نقد ۔ )