صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 141 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 141

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۱ ۳۴- كتاب البيوع أُمَّ الْمُؤْمِنِيْنَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَريَ جَارِيَةً کی کہ حضرت عائشہ ام المومنین نے ایک لونڈی خریدنی فَتَعْتِقَهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيْعُهَا عَلَى أَنَّ چاہی تاکہ اسے آزاد کریں ؛ تو اس کے مالکوں نے کہا: وَلَاءَهَا لَنَا فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ہم اسے آپ کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کرتے ہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يَمْنَعُكِ کہ اس کا ترکہ ہمارا ہو۔حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ذَلِكَ فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ۔یہ بات تمہیں (ترکہ لینے سے) روک نہیں سکتی۔کیونکہ ترکہ تو اس کا ہوتا ہے جو آزاد کرے۔اطرافه: ٢١٥٦، ٢٥٦٢، ٦٧٥٢ ٦٧٥٩٦٧٥٧ تشریح: إِذَا اشْتَرَطَ شُرُوطًا فِي الْبَيْعَ لَا تَحِلُّ : اس باب اور حدیث مندرجہ ذیل سے سابقہ باب کے مضمون کی تائید مزید ہے کہ جس خرید و فروخت میں شریعت کی قائم کردہ شرطوں کی خلاف ورزی ہو، وہ دو صورتوں سے خالی نہیں۔اول یہ کہ بیچ تو قائم رہے گی مگر شرط چونکہ باطل ہے، اس لئے از خود ساقط ہو جائے گی۔دوم اگر مالک کو اپنی شرط پر اصرار ہو تو وہ بیچ قابل فسخ اور رڈ ہوگی۔تفصیل کے لیے دیکھئے عمدۃ القاری جزءا صفحہ ۲۸۹،۲۸۸۔اس مضمون سے متعلق مزید دیکھئے: کتاب الشروط باب ۱۰۔بَاب ٧٤: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ کھجور کے بدلے کھجور بیچنا ۲۱۷۰: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا :۲۱۷۰: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا۔لیث نے اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِكِ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب أَوْسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نے مالک بن اوس سے روایت کی۔انہوں نے عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عمر رضی اللہ عنہا کو بی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت الْبُرُّ بِالْبُرَ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا: گیہوں کے بدلے گیہوں سود ہے مگر یہ لو یہ دو۔اور جو کے بدلے ابي بِالشَّعِيْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ جو سود ہے مگر یہ لو یہ دو۔اور کھجور کے بدلے کھجور سود بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ۔اطرافة: ٢١٣٤، ٢١٧٤۔ہے مگر یہ لو یہ دو۔( یعنی ہاتھوں ہاتھ نفقد بہ نقد۔)