صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 137 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 137

صحيح البخاری جلدم ۱۳۷ ۳۴- كتاب البيوع ٢١٦٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۱۶۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے نافع سے، نافع ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيْعُ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور تجارتی سامان بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَلَقَّوُا السّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا إِلَى السُّوْقِ۔اطرافه: ۲۱۳۹، ٥١٤۲ تشریح: لانے والوں سے آگے جا کر نہ ملا کر و؛ جب تک کہ مال منڈی میں لے جا کر اُتارا نہ جائے۔اَلنَّهَى عَنْ تَلَقَّى الرُّكْبَان وَانَّ بَيْعَهُ مَرْدُودٌ : حنفیوں اور بعض مالکیوں نے ایسی بیچ باطل اور قابل فسخ قرار دی ہے بشرطیکہ نرخ کی کمی بیشی ثابت ہو۔کیونکہ مذکورہ بالا ممانعت صرف اسی لئے ہے کہ قافلہ والوں کو نقصان نہ ہو اور اگر نرخ درست ہوں تو بیع قائم رہے گی۔احناف کے نزدیک یہ بیع دو شرطوں کے تحت صرف اس وقت قابل رڈ ہو گی، جب باہر جا کر سودا چکانے سے شہر والوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو، یا سامان تجارت لانے والوں پر اصل نرخ مشتبہ کر دئیے جائیں۔اگر دونوں باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک باہر جا کر سودا ٹھہرانے میں کوئی حرج نہیں۔جمہور نے یہ طریق بھی مکروہ سمجھا ہے اور امام شافعی تو امام ابوحنیفہ کے جواز والے فتوے کے خلاف ہیں اور امام مالک کے نزدیک ایسا سامان جس میں فریب ثابت ہو، مشتری کو ر ڈ کرنے کا اختیار ہے۔ان کے اس فتویٰ کی بناء حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے جو ایوب نے بسند محمد بن سیرین نقل کی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں : أَنَّ النَّبِيِّ ا نَهَى أَنْ يَتَلَقَّى الْجَلَبُ فَإِنْ تَلَقَّاهُ إِنْسَانَ فَابْتَاعَهُ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ فِيْهَا بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَ السُّوق۔(ترمذى، كتاب البيوع، باب ما جاء في كراهية تلقى البيوع يعني نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درآمدی سامان کو راستے میں جا کر حاصل کرنے سے روکا ہے۔اگر وہ باہر جا کر ملا ہے اور اسے خرید لیا ہے تو سامان والے کو اختیار ہے کہ جب وہ منڈی میں آئے تو بیع قائم رکھے یانہ رکھے۔اس روایت کی صحت پر امام مسلم، ابوداؤد، ترندی اور ابن خزیمہ سب کا اتفاق ہے کہ امام مالک بھی درحقیقت فتویٰ جواز کے خلاف ہیں کیونکہ اس میں بازار والوں کا نقصان ہے اور ان کے فتویٰ کی بناء حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت (نمبر ۲۱۶۵) ہے؛ جس میں صراحت ہے کہ قافلہ والوں سے باہر جا کر نہ ملا جائے۔یہ ممانعت بطور حجت شرعی ہے، قطع نظر اس سے کہ کسی کو نقصان پہنچے یانہ پہنچے۔خلاصہ یہ کہ اس امر میں سب آئمہ متفق ہیں کہ نرخ میں کمی ثابت ہو تو ایسی بیج قابل فسخ ہو گی۔مذکورہ بالا فقہی اختلاف کے پیش نظر باب اے قائم کیا گیا ہے اور اختلاف الله (مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم تلقى الجلب) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب في التلقي)