صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 136
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع ٢١٦٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۲۱۶۲ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوہاب حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ نے ہمیں بتایا۔( انہوں نے کہا ) کہ عبیداللہ عمری نے الْعُمَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّلَقِي وَأَنْ يَبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ۔عَنِ جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے اور اس امر سے بھی کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے خرید وفروخت کرے۔اطرافه: ٢١٤٠ ، ٢١٤٨، ٢١٥٠، ٢١٥١، ۲۱٦٠، ۲۷۲۳، ۲۷۲۷، ٥١٤٤، ٥١٥٢، ٦٦٠١۔٢١٦٣: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ :۲۱۶۳: عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسِ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَأَلْتُ انہوں نے ابن طاؤس سے اور ابن طاؤس نے اپنے اللَّهُ عَنْهُمَا مَا مَعْنَى باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آنحضرت علی قَوْلِهِ لَا يَبِيْعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ فَقَالَ کے اس ارشاد کا کیا مطلب ہے کہ شہری دیہاتی کا مال ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ لَا يَكُوْنُ لَهُ سِمْسَارًا۔اطرافه: ٢١٥٨، ٢٢٧٤ نہ بیچے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کا دلال نہ بنے۔٢١٦٤ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ ۲۱۶۴: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یزید بن زریع ابْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي التَّيْمِيُّ عَنْ نے ہمیں بتایا، کہا کہ (سلیمان) تیمی نے مجھ سے بیان أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ کیا۔انہوں نے ابو عثمان سے، ابوعثمان نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔قَالَ مَنِ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّ مَعَهَا انہوں نے کہا: جو ایسا جانور خریدے جس کا دودھ صَاعًا قَالَ وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تھنوں میں روک کر جمع کیا گیا ہو تو چاہیے کہ اسے وَسَلَّمَ عَنْ تَلَقِي الْبَيُوْعِ واپس کر دے اور ساتھ ہی ایک صاع (کھجور ) بھی دے۔انہوں نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی قافلوں کو آگے جا کر ملنے سے بھی روکا ہے۔طرفه: ٢١٤٩۔