صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 135
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۵ ۳۴- كتاب البيوع ٢١٦١ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۲۱۶۱: محمد بن شنی نے مجھ سے بیان کیا ، ( کہا: ) معاذ حَدَّثَنَا مُعَادٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ (ابن معاذ ) نے ہمیں بتایا کہ (عبد اللہ ) بن عون نے محمد بن سیرین) سے روایت کرتے ہوئے ہم سے اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ نُهِيْنَا أَنْ يُبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ۔بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اس بات سے روکے گئے تھے کہ کوئی شہری دیہاتی کے لئے خرید و فروخت کرے۔لَا يَشْتَرِى حَاضِرٌ لِبَادٍ بِالسَّمْسَرَةِ: باب 19 کا تعلق فروخت سے ہے اور اس باب کا تشریح خریداری ہے۔عنوان باب میں محمد بن سیرین کا حوالہ منقول ہے۔اسے ابن عوانہ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے کہ ابن سیرین نے حضرت انس بن مالک سے دریافت کیا کہ مشار الیہ ممانعت خرید وفروخت دونوں پر حاوی ہے تو انہوں نے کہا: ہاں ؛ لفظ بیع کا اطلاق خرید و فروخت دونوں پر ہوتا ہے۔ابوداؤد نے بھی اسے نقل کیا ہے یہ ابراہیم نخعی کے حوالے کی بابت علامہ ابن حجر نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۴۷۱) مگر علامہ عینی نے ابن حزم کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عرب کے شہری تاجر بدوی کی ناواقفیت سے ناجائز فائدہ اُٹھایا کرتے تھے۔اس لیے ایسی بیع شرعاً باطل اور قابل فتح قرار دی گئی۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۲۸۳) یہ تین ابواب ( نمبر ۶۸ ۶۹ ۷۰) ایک ہی مضمون سے متعلق ہیں، صرف اسلوب مختلف ہے۔پہلے کا عنوان بصورت استفتاء ہے۔دوسرے میں ممانعت کے بارے میں نص صریح کا ذکر ہے کہ اجرت پر خرید وفروخت میں واسطہ بننا مکروہ ہے۔تیسرے میں ولالی سے صریح ممانعت کا ذکر ہے۔تینوں ابواب کی روایات کو مختلف سندوں سے مضبوط کیا گیا ہے اور ابواب کی ترتیب میں تسلسل ملحوظ رکھا گیا ہے۔دراصل یہ ممانعت اس اصل پر مبنی ہے کہ خرید وفروخت میں آزادی ہو اور جتنے واسطے بائع اور مشتری کے درمیان کم ہوں گے، اتنی ہی ارزاں ہوگی اور درمیانی وسائط کی اجرت کے بار سے آزاد رہے گی اور دھوکہ فریب کا احتمال بھی کم ہوگا۔باب ۷۱ : النَّهْيُ عَنْ تَلَقِي الرُّكْبَانِ (شہر سے باہر آگے جا کر ) قافلہ والوں سے ملنے کی ممانعت وَأَنَّ بَيْعَهُ مَرْدُودٌ لِأَنَّ صَاحِبَهُ عَاصِ اور ایسی خرید و فروخت قابل رڈ ہے۔کیونکہ اس قسم کی آثِمٌ إِذَا كَانَ بِهِ عَالِمًا وَهُوَ خِدَاعٌ فِي خرید و فروخت کرنے والا نا فرمان اور گنہگار ہے، بشرطیکہ الْبَيْعِ وَالْخِدَاعُ لَا يَجُوْزُ۔وہ اس ممانعت کا علم رکھتا ہو اور یہ خرید وفروخت میں ایک قسم کا فریب ہے اور دھوکہ فریب جائز نہیں۔(مسند ابی عوانة كتاب البيوع، بيان حظر بيع الحاضر للبادی، رویت نمبر ۴۹۴۶ جزء ۳۰ صفحه ۲۷۴) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب فى النهي أن يبيع حاضر لباد)