صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 134 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 134

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۴ ۳۴- كتاب البيوع وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاس: سابقہ باب میں حضرت ابن عباس کا قول گزر چکا ہے کہ مذکورہ بالا ممانعت سے مراد ایسی دلالی ہے کہ جو شہری بائع اور غیر شہری بائع کے درمیان بھاؤ ٹھہرانے کی غرض سے کی جاتی ہے۔دلال عموما زیادہ سے زیادہ نفع شہری تاجر کو پہنچا کر اس فریب دہی سے اپنا نفع بھی زیادہ سے زیادہ پیدا کرتا ہے۔یہ صورت ممنوع ہے۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کے آخر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت نمبر ۲۱۵۸ کا حوالہ دیا ہے۔اس سے ان کا مقصود یہ ہے کہ حضرت ابن عمر کی روایت میں جس مطلق ممانعت کا ذکر ہے، وہ در حقیقت مقید ہے۔دیہاتی کو خیر خواہی سے مشورہ دینا ممنوع نہیں جس کا ذکر سابقہ باب میں گذر چکا ہے۔بَاب ٧٠: لَا يَشْتَرِي حَاضِرٌ أَبَادٍ بِالسَّمْسَرَةِ کوئی شہری غیر شہری کے لئے دلالی پر بیٹے نہ کرے وَكَرِهَهُ ابْنُ سِيْرِيْنَ وَإِبْرَاهِيمُ اور ابن سیرین اور ابراہیم (شخصی) نے اسے مکروہ قرار لِلْبَائِعِ وَلِلْمُشْتَرِيْ۔وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ دیا؛ بیچنے والے کے لئے بھی اور خریدار کے لئے بھی۔الْعَرَبَ تَقُوْلُ بِعْ لِي ثَوْبًا وَهِيَ اور ابراہیم (شخصی) نے کہا: عرب کہتے بِعُ لِی ثَوْبًا۔تَعْنِي الشَّرَاءَ۔اور ان کی مراد اس سے خرید ہوتی ہے۔٢١٦٠ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۲۱۶۰ مکی بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ابن جریج نے مجھے خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ سے ، ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی اللهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔أَبَاهُرَيْرَةَ رَضِيَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَبْتَعِ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ وَلَا تَنَاجَشُوا کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ۔فریب سے قیمت نہ بڑھائے اور شہری دیہاتی کے لئے نہ بیچے۔اطرافه: ۲۱٤۰، ۲۱٤۸، ۲۱٥۰، ٢١٥۱، ۲۱٦٢، ۲۷۲۳، ۲۷۲۷ ، ٥١٤٤، ٥١٥٢، ٦٦٠١۔شهر عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادِ بِالسَّمْسَرَةِ ہیں۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۸۳)