صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 133
۳۴- كتاب البيوع صحيح البخاری جلد ۴ کا مشورہ دے۔امام مسلم نے بھی یہ حدیث ان الفاظ میں نقل کی ہے : لَا يَبعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُو النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ۔(مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الحاضر للبادی) یعنی شہری غیر شہری کے لئے خرید و فروخت نہ کرے۔لوگوں کو (اپنے حال پر ) چھوڑ دو کہ ایک دوسرے سے اپنا رزق حاصل کریں۔وَرَخَّصَ فِيهِ عَطَاء : عطاء بن ابی رباح کے فتوی کا حوالہ عبدالرزاق نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عثمان نے ان سے دریافت کیا کہ آیا وہ فلاں بدوی کا سامان بیچ سکتا ہے تو انہوں نے اجازت دی۔(مصنف عبد الرزاق، كتاب البيوع، باب لا يبيع حاضر لباد، جزء ۸ صفحه ۲۰) فقہاء نے فتویٰ دیا ہے کہ اگر تجارتی صورت حال ایسی ہو کہ نرخ ہر کس و ناکس کو معلوم ہوں۔فریب دہی کی گنجائش نہ ہو تو اجازت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بطور کراہت تنزیہی ہے نہ تحریمی۔تقویٰ اسی میں ہے کہ اس سے پر ہیز کیا جائے۔امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے اور ارشاد نبوى الدِّينُ النَّصِيحَةُ دراصل تمام معاملات بیع وشراء پر حاوی ہے۔(فتح الباری جز ۴ صفحہ ۴۶۸) یہ معقول مذہب مد نظر رکھتے ہوئے روایت نمبر ۲۱۵۷، ۲۱۵۸ پر مقدم کی گئی ہے اور اس کی تائید میں مذکورہ بالا حوالے دیئے گئے ہیں۔اس تعلق میں ملاحظہ ہو تشریح کتاب الایمان باب ۴۲۔بَاب ٦٩: مَنْ كَرِهَ أَنْ يُبْعَ حَاضِرٌ أَبَادٍ بِأَجْرٍ جس نے مکر وہ جانا کہ شہری غیر شہری کا مال اُجرت لے کر بیع کرے ٢١٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ :۲۱۵۹ عبد اللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِي الْحَنَفِيُّ عَنْ ابو علی شفی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبدالرحمن بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عبدالله بن دینار سے روایت کی۔انہوں نے کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عُمَرَ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُوْلُ اللَّهِ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ شہری صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَّبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ۔وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ۔غیر شہری کا مال فروخت کرے اور حضرت ابن عباس نے بھی یہی کہا ہے۔تشریح : : ن كَرِهَ أَنْ يَّبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِأَجْرٍ : امام شافعی اور امام اوزاعی نے اس امر کی اجازت دی ہے کہ دیہاتی کو بذریعہ اشارہ نرخ سے مطلع کر دیا جائے۔اس فتویٰ کے مقابل میں لیٹ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک اشارہ کرنا بھی جائز نہیں۔(فتح الباری جز ۴ صفحہ ۴۷)