صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 133 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 133

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۳۳ ۳۴- كتاب البيوع کا مشورہ دے۔ امام مسلم نے بھی یہ حدیث ان الفاظ میں میں نقل کی ہے : لا يَبعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُو النَّاسَ يَرْزُقِ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ۔ (مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الحاضر للبادی) یعنی شہری غیر شہری کے لئے خرید و فروخت نہ کرے۔ لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو کہ ایک دوسرے سے اپنا رزق حاصل کریں۔ وَرَخَّصَ فِيْهِ عَطَاءٌ : عطاء بن ابی رباح کے فتوی کا حوالہ عبدالرزاق نے نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن عثمان نے ان سے دریافت کیا کہ آیا وہ فلاں بدوی کا سامان بیچ سکتا ہے تو انہوں نے اجازت دی۔ (مصنف عبد الرزاق، كتاب البيوع، باب لا يبيع حاضر لباد، جزء ۸ صفحہ ۲۰۱) فقہاء نے فتوی دیا ہے کہ اگر تجارتی صورت حال ایسی ہو کہ بطور نرخ هر کس و ناکس کو معلوم ہوں۔ فریب دہی کی گ ، دہی کی گنجائش نہ ہو تو اجازت ہے اور آنحضرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت کراہت تنزیہی ہے نہ تحریمی ۔ تقوی | ہے نہ تحریمی ۔ تقومی اسی میں ہے کہ اس ہے کہ اس سے پر ہیز کیا جائے ۔ امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے اور ارشادِ نبوى الدِّينُ النَّصِيحَةُ دراصل تمام معاملات بيع وشراء پر حاوی ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۶۸) ۔ ایه معقول مذهب مد نظر رکھتے ہوئے روایت نمبر ۲۱۵۷، ۲۱۵۸ پر مقدم کی گئی ہے اور اس کی تائید میں مذکورہ بالا حوالے دیئے گئے ہیں۔ اس تعلق میں ملاحظہ ہو تشریح کتاب الایمان باب ۴۲۔ باب ٦٩ : مَنْ كَرِهَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِأَجْرٍ جس نے مکروہ جانا کہ شہری غیر شہری کا مال اُجرت لے کر بیع کرے ٢١٥٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبَّاحٍ ۲۱۵۹ : عبداللہ بن صباح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيَّ الْحَنَفِيُّ عَنْ ابو علی حنفی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عبداللہ بن دینار سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ بن عمر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ شہری صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيْعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ۔ وَبِهِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ۔ غیر شہری کا مال فروخت کرے اور حضرت ابن عباس نے بھی یہی کہا ہے۔ تشريح : مَنْ كَرِهَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِأَجر : امام شافعی اور امام اوزاعی نے اس امر کی اجازت دی ہے کہ دیہاتی کو بذریعہ اشارہ نرخ سے مطلع کر دیا جائے ۔ اس فتوٹی کے مقابل میں لیٹ اور امام ابو حنیفہ لیٹا کے نزدیک اشارہ کرنا بھی جائز نہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۴۷۰)