صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 130
صحيح البخاری جلدم ۱۳۰ باب ٦٧ : الشَّرَاءُ وَالْبَيْعُ مَعَ النِّسَاءِ عورتوں کے ساتھ خرید وفروخت کرنا ۳۴- كتاب البيوع ٢١٥٥: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۲۱۵۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ نے ہمیں زہری سے خبر دی کہ عروہ بن زبیر نے کہا: الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے تو میں نے آپ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ سے بریرہ کے خریدنے کا ) ذکر کیا تو رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِي وَأَعْتِقِي صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بریرہ کو) خرید لو اور آزاد کردو، کیونکہ ترکہ اسی کو ملتا ہے جو آزاد کرے۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جس کے وہ لائق ہے۔پھر فرمایا: لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ ایسی شرطیں کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں۔جس نے ایسی شرط کی جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں، وہ باطل ہے خواہ سو فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَشِيِّ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ النَّاسِ يَشْتَرِطُونَ شُرُوْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللهِ مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ۔شرطیں کرے۔اللہ کی شرط نہایت سچی اور نہایت مضبوط ہے۔اطرافه: ٤٥٦، ١٤٩٣، ٢١٦٨، ٢٥٣٦، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ٢٥٦٥، ،٥، ٥٢٨٤ ٥٤٣٠۲۷۹ ،۵۰۹۷، ۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲۶ ،۲۷۱۷ ،۲۵۷۸ ٦٥، ٧٥٤، ٦٧٦٠،٦٧٥٨۰۱ ،۱۷ ٢١٥٦: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ :۲۱۵۶ حسان بن ابی عباد نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے نافع سے سنا۔وہ حضرت عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے تھے کہ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سَاوَمَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ کی قیمت (اس کے