صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 129 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 129

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۲۹ ۳۴- كتاب البيوع إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ شادی شدہ نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ فَاجْلِدُوْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيْعُوْهَا وَلَوْ اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو بِضَفِيْرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ اسے کوڑے لگاؤ۔ پھر اگر زنا کرے تو اسے بیچ دوں، گو ایک بٹی ہوئی رسی کے عوض ۔ ابن شہاب نے کہا: میں الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ۔ نہیں جانتا (آنحضرت ﷺ نے یہ فقرہ ) تیسری بار کے بعد ( فرمایا ) یا چوتھی بار کے بعد ۔ اطراف الحديث ۲۱۵۳: ۲۱۵۲ ، ۲۲۳۳، ۲۲۳۷، ٢۵۵۵، ٦٨٣٧، 6839۔ اطراف الحدیث ۲۱۵۴ ٢۲۳۲، ٢٥٥٦ ، ٦٨٣٨ -------- تشریح : بَیعُ الْعَبْدِ الزَّانِي : عنوان باب مں شرح کے فصلے کاحوالہ دیا گیاہے جو قاضی اتفاق تھے۔ سعید بن منصور نے محمد بن سیرین کی سند سے ان کا ایک فیصلہ نقل کیا ہے۔ ایک شخص نے کسی سے لونڈی خریدی جس نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا۔ مشتری نے ا ا تھا۔ مشتری نے اس کا علم ہونے پر قاضی القضاۃ ہونے پر قاضی القضاۃ کے پاس شکایت کیا اشکایت کی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ مشتری کو اختیار ہے کہ اسے واپس کرے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۶۶) اس حوالہ سے باب کا مقصد واضح ہے کہ ایسی بیع بھی غرر کہلائے گی اور قابل رڈ ہوگی ۔ عنوان باب الفاظ الْعَبُدُ الزَّانِی سے قائم کیا گیا ہے۔ عبد کا لفظ غلام اور لونڈی دونوں پر اطلاق پاتا ہے۔ احناف نے زنا کے بارے میں غلام اور لونڈی کے درمیان فرق ملحوظ رکھا ہے کہ لونڈی میں تو یہ عیب ہے، جس کی وجہ سے بیچ رڈ ہوگی۔ مگر غلام میں اگر یہ فعل پایا جائے تو وہ اگر چہ قابل سزا ہے مگر اس کی بیچ برقرار رہے گی، کیونکہ لونڈی کے خریدنے کی غرض مباشرت ہے اور غلام کے خریدنے کی غرض خدمت گزاری۔ دونوں غرضوں کے فرق کی وجہ سے سلوک میں بھی فرق ہو گا ۔ یہ دلیل ہے احناف کی۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۷۷) مگر روایت مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ غلام لونڈی دونوں کا فعل قابل تعزیر ہے۔ مگر بیچ کی صحت قائم رہے گی۔ جس کی وجہ غالباً یہ معلوم ہوتی ہے کہ زنا کے فعل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بائع کو اس کا علم تھا اور اس علم کے باوجود اس نے ان کو فروخت کیا ہے۔ کیونکہ یہ جرم بیع کے بعد بھی واقع ہو سکتا ہے۔ مشتری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا فَلْيَبِعُها یعنی اس لونڈی کو بیچ دے، اس سے پہلی بیچ برقرار ثابت ہوتی ہے۔ شریح کے فیصلے سے ظاہر ہے کہ مشار الیہ واقعہ میں مشتری نے شہادتوں سے ثابت کر دیا تھا کہ بائع کو لونڈی کے عیب کا علم تھا۔ ایسی صورت میں اس کی فروخت بیع الغرر کی قسم سے ہے اور قابل فتح ۔ جیسا کہ قاضی القضاۃ نے فیصلہ کیا ہے۔