صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 129
صحيح البخاری جلد ۴ ۳۴- كتاب البيوع إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ شادی شدہ نہ ہو تو کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا کہ فَاجْلِدُوْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيْعُوْهَا وَلَوْ اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ۔پھر اگر زنا کرے تو بِضَفِيْرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ اسے کوڑے لگاؤ۔پھر اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، گو ایک بٹی ہوئی رسی کے عوض۔ابن شہاب نے کہا: میں نہیں جانتا ( آنحضرت ﷺ نے یہ فقرہ ) تیسری بار الثَّالِثَةِ أَو الرَّابِعَةِ۔کے بعد ( فرمایا ) یا چوتھی بار کے بعد۔اطراف الحدیث ۲۱۵۳: ۲۱۰۲ ۲۲۳۳۰، ۲۲۳، ٢٥۰، ٦٨٣٧، ٦٨٣٩۔اطراف الحدیث :۲۱۵۴ ٢٢۳۲، ٢٥٥٦، ٦٨٣٨۔تشریح: بَيْعُ الْعَبْدِ الزَّانِي : عنوانِ باب میں شریح کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ہے جو قاضی القضاۃ تھے۔سعید بن منصور نے محمد بن سیرین کی سند سے ان کا ایک فیصلہ نقل کیا ہے۔ایک شخص نے کسی سے لونڈی خریدی جس نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا۔مشتری نے اس کا علم ہونے پر قاضی القضاۃ کے پاس شکایت کی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ مشتری کو اختیار ہے کہ اسے واپس کرے۔(فتح الباری جز ہم صفحہ ۴۶۶ ) اس حوالہ سے باب کا مقصد واضح ہے کہ ایمی بیع بھی غرر کہلائے گی اور قابل رڈ ہوگی۔عنوانِ باب الفاظ الْعَبُدُ الزَّانِی سے قائم کیا گیا ہے۔عبد کا لفظ غلام اور لونڈی دونوں پر اطلاق پاتا ہے۔احناف نے زنا کے بارے میں غلام اور لونڈی کے درمیان فرق ملحوظ رکھا ہے کہ لونڈی میں تو یہ عیب ہے، جس کی وجہ سے بیچ رو ہوگی۔مگر غلام میں اگر یہ فعل پایا جائے تو وہ اگر چہ قابل سزا ہے مگر اس کی بیچ برقرار رہے گی، کیونکہ لونڈی کے خریدنے کی غرض مباشرت ہے اور غلام کے خریدنے کی غرض خدمت گزاری۔دونوں غرضوں کے فرق کی وجہ سے سلوک میں بھی فرق ہوگا۔یہ دلیل ہے احناف کی۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۷۷) مگر روایت مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کہ غلام لونڈی دونوں کا فعل قابل تعزیر ہے۔مگر بیع کی صحت قائم رہے گی۔جس کی وجہ غالباً یہ معلوم ہوتی ہے کہ زنا کے فعل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بائع کو اس کا علم تھا اور اس علم کے باوجود اس نے ان کو فروخت کیا ہے۔کیونکہ یہ جرم بیچ کے بعد بھی واقع ہوسکتا ہے۔مشتری کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا فَلْيَبعُها یعنی اس لونڈی کو بیچ دے، اس سے پہلی بیچ برقرار ثابت ہوتی ہے۔شریح کے فیصلے سے ظاہر ہے کہ مشار الیہ واقعہ میں مشتری نے شہادتوں سے ثابت کر دیا تھا کہ بائع کولونڈی کے عیب کا علم تھا۔ایسی صورت میں اس کی فروخت بیع الغرر کی قسم سے ہے اور قابل فسخ۔جیسا کہ قاضی القضاۃ نے فیصلہ کیا ہے۔