صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 131 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 131

صحيح البخاری جلد ۴ المدا ۳۴- كتاب البيوع بَرِيْرَةَ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَمَّا جَاءَ مالکوں سے کرائی۔ پھر آنحضرت ﷺ نماز کے لئے قَالَتْ إِنَّهُمْ أَبَوْا أَنْ يَبِيعُوْهَا إِلَّا أَنْ نکلے ۔ جب آپ واپس تشریف لائے تو حضرت عائشہ يَشْتَرِطُوْا الْوَلَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے کہا کہ انہوں نے بریرہ کے بیچنے سے انکار کر دیا ہے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ مگر اس شرط پر کہ تر کہ انکا ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترکہ تو اسے ملتا ہے جو آزاد کرے۔ (ہمام قُلْتُ لِنَافِعِ حُرًّا كَانَ زَوْجُهَا أَوْ عَبْدًا کہتے تھے: میں نے نافع سے کہا: بریرہ کا خاوند آزاد فَقَالَ مَا يُدْرِيْنِي۔ تھا یا غلام؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ اطرافه ٢١٦٩، ٢٥٦٢، ٦٧٥٢، 6757، 6759 تشريح : الشَّرَاءُ وَالْبَيْعَ مَعَ النِّسَاءِ : عورتیں بالعموم اورخاص کر پرده نشین لر پردہ تین منڈی اور بازار وغیرہ کے -------- نرخوں سے واقف نہیں ہوتیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ امور خانہ داری میں مشغول رہتی ہیں۔ ان کی لاعلمی سے ناجائز فائدہ اٹھانا آسان ہے۔ عورتوں کے ساتھ لین دین کا کاروبار بھی بیع الغرر کے ماتحت آتا ہے اور اسی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ ان سے خرید و فروخت ہو سکتی ہے لیکن اگر کسی نے ان کی لاعلمی سے ناجائز فائدہ اُٹھایا تو یہ بیچ رڈ ہو گی ۔ بَاب ٦٨ : هَلْ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِغَيْرِ أَجْرٍ کیا شہری دیہاتی کا مال بغیر اُجرت لئے بیچے وَهَلْ يُعِيْنُهُ أَوْ يَنْصَحُهُ وَقَالَ النَّبِيُّ اور اسے مدد دے یا اس کی خیر خواہی کرے؟ اور نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَنْصَحَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَنْصَحْ لَهُ۔ وَرَخَّصَ بھائی سے خیر خواہی کی بات چاہے تو چاہیے کہ وہ اس کی خیر خواہی کرے۔ اور عطاء نے (شہری کو ) اس فِيْهِ عَطَاءٌ۔ بارے میں اجازت دی ہے۔ ٢١٥٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۱۵۷: علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اسماعیل سَمِعْتُ جَرِيرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ ( بن ابی خالد ) سے، اسماعیل نے قیس ( بن ابی حازم )