صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 127 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 127

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۲۷ ۳۴- كتاب البيوع ، البيوع مطابق ہے جن میں مدت کی تعیین نہیں ۔ ان حوالوں کی تفصیل کے لیے دیکھئے : فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۵۸، ۴۵۹ - عمدة القاری جزء ۱ صفحه ۲۷۱ ۲۷۲ وَالتَّمْرُ اكْثَرُ : جمله وَالتَّمُرُ أَكْثَرُ سے امام بخاری کی یہ مراد ہے کہ اکثر روایات میں ایک صاع کھجور کا ذکر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحه ۲۷۲) بَاب ٦٥ : إِنْ شَاءَ رَدَّ الْمُصَرَّاةَ وَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِّنْ تَمْرٍ دودھ روکا ہوا جانور ( دودھ دوہ کر ) اگر چاہے واپس کر دے ہے اور اس کا دودھ لینے کے عوض میں ایک صاع کھجور دے ٢١٥١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ۲۱۵۱ محمد بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ مکی ( بن حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ابراہیم نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ہمیں خبر دی۔ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَی انہوں نے کہا کہ زیاد ( بن سعد خراسانی ) نے مجھے عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ بتایا کہ ثابت نے جو عبد الرحمن بن زید کے آزاد کردہ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ قَالَ غلام تھے، ان کو خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسی بکری خریدی جس کا اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً فَاحْتَلَبَهَا فَإِنْ دودھ تھنوں میں روک کر اکٹھا کیا گیا ہو اور وہ اسے رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي دو ہے؛ اگر اس نے اسے پسند کر لیا ہے تو اسے رکھ حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِّنْ تَمْرٍ۔ لے اور اگر اس نے ناپسند کیا ہے تو اس کے دودھ کے بدلے ایک صاع کھجور دینا ہوگی ۔ اطرافه: ٢١٤٠ ، ٢١٤٨ ، ٢١٥٠ ، ٢١٦٠، ٢١٦٢، ۲۷۲۳، ۲۷۲۷، ٥١٤٤، ٥١٥٢، 6601۔ تشريح : إِنْ شَاءَ رَدَّ الْمُصَرَّاةَ وَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ : جمہورکی رائے میں ایک صاع کھجور جو دی جائے گی ، جو دی جائے گی ، وہ دودھ کا معاوضہ ۔ معاوضہ ہے۔ مگر امام ابن حزم کی رائے ہے کہ دودھ دوہنے کا معاوضہ ہے اور جتنا دودھ حاصل کیا جائے ، اس کا الگ اندازہ ہو کر یا واپس ہو گا یا اس کی قیمت دی جائے گی اور انہوں نے اس کی یہ دلیل دی ہے کہ فقرہ فِی حَلْبَتِهَا کے یہ معنی ہیں کہ دوہنے کی وجہ سے ایک صاع دیا جائے۔ اس لئے اس فقرے کا مفہوم الفاظ کے ظاہری معنوں پر معمول ہوگا نہ مجاز پر ، جو دودھ ہے۔ امام ابن حزم کے اس فتوی کی بناء پر جو جمہور کے خلاف