صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 126 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 126

صحيح البخاری جلد ۴ ۱۴۶ ۳۴- كتاب البيوع تشريح : النَّهَى لِلْبَائِعِ أَن لَّا يُحَفِلَ الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْغَنَمَ : مویشیوں کے تاج العلوم مذکورہ بالا طریق اختیار کرتے ہیں جو فریب رہی ہے اور ممنوع ہے۔ حنابلہ اور بعض شوافع کے نزدیک یہ ممانعت صرف دو دھیل جانوروں ہی سے مخصوص ہے نہ کہ ہر جانور ہے ۔ اسی لئے عنوانِ باب میں كُلُّ مُحَقَّلَةٍ کا فقرہ بڑھا کر اسی فقہی اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ تفصیل کے لئے فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۵۷ نیز عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۶۹ دیکھئے۔ روایات زیر باب میں گائے کا ذکر نہیں۔ لیکن عنوان باب میں اس کا ذکر ہے جو قیاس پر بنی ہے۔ یہ قیاس جمہور کے نزدیک درست ہے۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۴۵۶، ۴۵۷ ) بعض کا خیال ہے کہ محولہ بالا حدیث منسوخ ہے، حدیث ( نمبر ۲۰۷۹) الْبَيْعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ (۴۶) مگر یہ درست نہیں ؛ کیونکہ یہ حدیث ایک قاعدہ کلیہ بیان کرتی ہے۔ حدیث زیر باب استثنائی صورت ہے اور بیع غرر کی ایک شکل ہے اور بعض نے کہا ہے کہ مذکورہ بالا فقیہانہ استنباط حضرت ابو ہریرہ کا ہے جو از روئے درایت قابل قبول نہیں کیونکہ قیاس میں ان کا درجہ کمزور ہے۔ یہ خیال بھی ہر جگہ درست نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۲۴۰ صفحہ ۴۶۰) ان کے قیاس کی صحت ثابت کرنے کے لئے چند ایک تائیدی حوالہ جات نقل کئے گئے ہیں اور یہ حوالے دو قسم کے ہیں۔ بعض میں لوٹانے کی مدت معین ہے اور بعض میں معین نہیں۔ ابو صالح کی روایت بسند حضرت ابو ہریرہ صحیح مسلم میں منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جس نے ایسی بکری خریدی جس کا دودھ تھنوں میں جمع کیا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے کہ چاہے رکھے یا کو ٹا دے اور اس کے ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے۔ (مسلم، كتاب البيوع، باب حكم بيع المصراة) اس کے مطابق شافعیوں کا عمل ہے۔ مجاہد کی روایت ہزار اور طبرانی نے موصولاً نقل کی ہے۔ اس میں مدت کا ذکر نہیں، البتہ بوقت واپسی ایک صاع اناج دینا مقصود ہے۔ (المعجم الأوسط للطبرانی، محمد بن أبان، روایت نمبر ۷۴۱۱، جزءے صفحہ ۲۴۹) موسیٰ بن بیسار کا حوالہ صحیح مسلم میں ہے جو مجاہد کی روایت کا ہم معنی ہے اور جس کے یہ الفاظ ہیں : فَإِنْ رَضِيَ حِلَابَهَا أَمْسَكَهَا وَإِلَّا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ۔ (مسلم، كتاب البيوع، باب حكم بيع المصراة) اگر اس کا دودھ پسند ہو تو اسے رکھے، ورنہ کو ٹا دے مع ایک صاع کھجور کے۔ یہ روایتیں بھی حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۴۵۸، ۴۵۹ ) عَنِ ابْنِ سِيرِينَ : محمد بن سیرین کی محولہ بالا روایت بھی صحیح مسلم اور ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ ہی سے مروی ہے، جس میں تین دن کے اختیار کی تصریح ہے۔ (مسلم، كتاب البيوع، باب حكم بيع المصراة) (ترمذی، كتاب البيوع، باب ما جاء في المصراة) اگلا حوالہ بھی ابن سیرین کا ہے، جو ابن منذر نے حضرت ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے۔ اس میں بھی ایک صاع کھجور کا ذکر ہے اور گندم اور جو کی نفی ان الفاظ میں ہے : لَا سَمُرَاءُ وَلَا بُرَّ سَمُرَاء اسمر کی مؤنث ہے۔ جس کے معنے گندم کے ہیں اور بُر کے معنے ہیں شعیر یعنی جو ۔ مالکیوں کا عمل ان روایتوں کے