صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 124 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 124

صحيح البخاری جلدم ۱۲۴ ۳۴- كتاب البيوع باب ٦٤ النَّهْيُ لِلْبَائِعِ أَنْ لَّا يُحَقِّلَ الْإِبِلَ وَالْبَقَرَ وَالْغَنَمَ وَكُلَّ مُحَفَّلَةٍ وَالْمُصَرَّاةُ الَّتِي صُرِّيَ لَبَنُهَا وَحُقِنَ فِيْهِ وَجُمِعَ فَلَمْ يُحْلَبْ أَيَّامًا بائع کو ممانعت ہے کہ وہ اونٹ، گائے اور بکری کے تھن میں دودھ جمع ہونے دے اور ہر ایسا جانور جس کے تھن میں دودھ جمع ہونے دیا جائے اور کئی دن نہ دوھیا جائے (اس کا بیچنا بھی منع ہے۔) وَأَصْلُ التَّصْرِيَةِ حَبْسُ الْمَاءِ يُقَالُ مِنْهُ تَصْرِيةٌ کے اصل معنے پانی روکنے کے ہیں۔اسی لفظ صَرَّيْتُ الْمَاءَ إِذَا حَبَسْتَهُ۔سے کہتے ہیں : صَرَّيْتُ الْمَاءَ یعنی میں نے پانی روک رکھا۔٢١٤٨: حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ۲۱۴۸: (سیمی) بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیٹ اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيْعَةَ عَنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جعفر بن ربیعہ سے، انہوں الْأَعْرَجِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ( عبد الرحمن بن ہرمز ) اعرج سے روایت کی کہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تُصَرُّوْا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدُ سے بیان کرتے ہوئے کہا کہ اُونٹ اور بکری کا دودھ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ تم نہ روکے رکھا کرو اور جوان کو اس کے بعد خریدے تو اسے دو باتوں کا اختیار ہے۔چاہے تو وہ ان کا دودھ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعَ دوہ کر رکھ لے اور چاہے تو ر ڈ کر دے اور ( بصورت رڈ) تَمْرٍ۔وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَمُجَاهِدٍ ایک صاع کھجور بھی دے۔ابو صالح اور مجاہد اور ولید ابوصالح وَالْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ وَمُوسَى بْنِ يَسَارٍ بن رباح اور موسیٰ بن بیار سے مذکور ہے۔انہوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ علیہ وسلم سے ایک صاع کھجور نقل کیا اور ان میں سے عَنِ ابْنِ سِيْرِيْنَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَهُوَ بعض نے کہا کہ ابن سیرین سے ایک صاع اناج مروی بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنِ ہے۔انہوں نے کہا: ) پھر اسے تین دن تک اختیار ابْنِ سِيْرِيْنَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ہے اور بعض نے کہا کہ ابن سیرین سے ایک صاع کھجور