صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 123
صحيح البخاری جلدم ۳۴- كتاب البيوع ٢١٤٦: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ ۲۱۴۶: اسماعیل ( بن ابی اولیس) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ کیا ، کہا: مالک نے مجھے بتایا۔انہوں نے محمد بن سکی حَبَّانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ بن حبان سے اور * ابوالزناد سے، ان دونوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اعرج سے اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَدَةِ۔بیع سے منع فرمایا جو صرف چھونے یا پھینکنے سے قرار پاتی ہے۔اطرافه: ٣٦٨، ٥٨٤ ،۵۸۸، ۱۹۹۳، ٢١٤٥، ٥٨١٩، ٥٨٢١۔٢١٤٧: حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ :۲۱۴۷: عیاش بن ولید (بصری) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَن کیا کہ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہم سے بیان الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ کیا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عطاء بن یزید أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى سے، عطاء نے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَّبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ۔کے لباس پہنے اور دو طرح کی بیع سے منع فرمایا ہے۔یعنی صرف چھو کر اور پھینک کر کوئی سامان بیچنا اور خریدنا۔اطرافه ٣٦٧، ۱۹۹۱، ۲۱٤٤، ٥٨۲۰، ٥٨٢٢، ٦٢٨٤۔تشریح : نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَدَةِ: الْمُلَامَسَةُ، لَمَسَ سے باب مفاعلہ ہے یعنی بغیر رکھے کپڑا چھو کر اندازہ کر لینا کہ یہ فلاں نوعیت اور فلاں قیمت اور اتنے ماپ کا ہوگا۔الْمُنَابَدَةُ، نَبَد سے ہے جس کے معنے ہیں پھینکنا۔اس بیچ میں بھی فر فتنی اشیاء نہیں دیکھی جاتیں بلکہ یہ کیا جاتا ہے کہ جو تیرے پاس پونجی ہے وہ میری طرف پھینک دے اور جو میرے پاس ہے وہ میں تیری طرف پھینک دیتا ہوں اور کبھی یوں بھی کیا جاتا تھا کہ کنکری کپڑے کے تھانوں کی طرف پھینک دی جاتی۔جس پر پڑتی اُس کا مبادلہ قرار پاتا۔( فتح الباری جز به صفحه ۴۵۳ تا ۴۵۵) (عمدۃ القاری جزء ۱ اصفحہ ۲۶۶ ۲۶۷) بیع کی یہ دو قسمیں بھی بیع غرر ہی کی ہیں جو قمار بازی کی صورت رکھتی ہیں۔وَقَالَ أَنَسٌ : باب ۹۳ روایت نمبر ۲۲۰۷ میں بحوالہ حضرت انس چند اقسام بیچ کی ممانعت کا ذکر ہے۔اس تعلق میں وہ بھی دیکھی جائیں۔عمدہ عمدۃ القاری میں اس جگہ وَعَنْ أَبِی الزَّنَادِ“ کے الفاظ ہیں۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۶۸)