صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 117
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۱۷ ۳۴- كتاب البيوع بھی اسے نقل کیا ہے۔ ان کی روایت حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَبْتَاعَ أَوْ يَذَرَ ۔ (نسائی ، كتاب البيوع، باب بيع الرجل على بيع أخيه) پہلی روایت کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے اور دوسری کا ترجمہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی بیچ پر پیچ نہ کرے، یہاں تک کہ وہ خرید لے یا چھوڑ دے۔ اس تعلق میں باب اے روایت نمبر ۲۱۶۵ بھی دیکھئے، جہاں یہ الفاظ ہیں : لا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ۔ یعنی تم میں سے کوئی کسی کی بیچ پر پیچ نہ کرے۔ اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں مخاطب ہیں۔ ( فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۴۴۶، ۴۴۷ ) وَلَا تَنَاجَشُوا : مُنَاجَشَة عربی زبان میں کسی فروختنی شئے کی تعریف کر کے رغبت دلانے کو کہتے ہیں تا وہ خریدی جائے یا مذمت کر کے اُس سے نفرت دلانا ۔ دونوں معنے لفظ نجش میں پائے جاتے ہیں ؛ جو دلال عموماً منڈیوں میں کرتے ہیں۔ یہ بھی دھوکہ اور فریب ہے جس سے قطعی طور پر منع کیا گیا ہے۔ لفظ نجش کے لغوی معنے ہیں دھوکا اور فریب سے شکار کرنا ۔ تَناجش باب تفاعل سے ہے۔ جس کے معنے بڑھ چڑھ کر قیمت پیش کرنا۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۵۸) ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۴۷ ) ایسی تمام صورتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمائی ہیں۔ دیہاتی عموماً شہر کے بھاؤ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ شہر سے باہر جا کر ان کی لاعلمی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سودا ٹھہرانا بھی منع ہے۔ اس تعلق میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر کسی نے مذکورہ بالا صورتوں میں بیع کا فیصلہ کر دیا ہے تو ایسی بیع برقرار رہے گی ، لیکن سود اٹھہرانے والا گنہگار ہوگا۔ مالکیوں اور حنبلیوں کے نزدیک ایسی بیع فاسد اور قابل تنسیخ ہوگی۔ امام شافعی کی اس بارہ میں یہ رائے ہے که اگر نرخ درسته درست ہو تو شہری باہر جا کر سودا کر سکتا ہے اور ایسی بیچ برقرار رہے گی۔ امام ابن حزم نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔ فقہاء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ بیع پر بیع اور پیغام نکاح پر پیغام نکاح حرام ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۷ ) بالعموم لوگ احتیاط سے کام نہیں لیتے اور تقویٰ یہی ہے کہ اس کے لئے راستہ نہ کھولا جائے۔ کھلی منڈی میں سامان تجارت باہر سے آنے دیا جائے ، تا پرسکون فضا میں بیچنے والا اطمینان سے علی وجہ البصیرت ہو کر بیچے۔ حقوق کی حفاظت میں یہی پر امن راہ ہے، جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ بَاب ٥٩ : بَيْعُ الْمُزَايَدَةِ بذریعہ نیلام خرید و فروخت وَقَالَ عَطَاءٌ أَدْرَكْتُ النَّاسَ لَا يَرَوْنَ اور عطاء بن ابی رباح) نے کہا: میں نے ایسے لوگوں بَأْسًا بِبَيْعِ الْمَغَانِمِ فِيْمَنْ يَزِيدُ۔ کا زمانہ پایا ہے جو غنیمت کا مال ایسے شخصوں کے پاس فروخت کرنا برا نہ سمجھتے تھے جو بڑھ چڑھ کر قیمت دیں۔ ٢١٤١: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۱۴۱: بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ