صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 118
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۱۸ ۳۴- كتاب البيوع أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ ( بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ حسین نے جو نشی تھے الْمُكْتِبُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ نے حضرت جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ ایک شخص نے اپنے ایک غلام کو اپنے مرنے کے بعد رَجُلًا أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ فَاحْتَاجَ فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آزاد قرار دیا۔ پھر وہ محتاج ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (غلام) کو لیا اور فرمایا: مجھ سے یہ کون خریدے گا ؟ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ و نعیم بن عبداللہ نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خرید لیا۔ عَبْدِ اللَّهِ بِكَذَا وَكَذَا فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ۔ تب آپ نے وہ غلام ٹیم کے حوا۔ ، وہ غلام نعیم کے حوالے کر دیا۔ اطرافه ۲۲۳۰، ۲۲۳۱، ۲۴۰۳، ٢٤١۵، ٢٥٣٤، ٦٧١٦، 6947، 7186۔ تشریح : بَيعُ الْمُزَائِدَةِ: سابقہ باب کے مضمون سے اس باب کا تعلق ظاہر ہے۔ یعنی جب سودے پر سودا کرنا ممنوع ہے تو بذریعہ نیلام بھی بیع ممنوع ہونی چاہیے مگر اس کی اجازت ہے۔ دونوں کی صورت مختلف ہے۔ بیع نجش یہ ہے کہ سامان بکھرا ہو، اس کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ ناقص ہے یا اس کی قیمت زیادہ ہے۔ میں اس سے بہتر اور سستی چیز لئے دیتا ہوں یا بکری روکنے یا شئے کے نکاس کی غرض سے دخل دیا جائے۔ نیلام میں یہ صورت نہیں بلکہ کھلا مقابلہ ہوتا ہے۔ امام ابن حجر کے نزدیک یہ باب ہزار رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کی کمزوری ظاہر کرنے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے جو سفیان بن وہب سے منقول ہے۔ اس کے یہ الفاظ ہیں : سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نیلام کے ذریعے سے بیچ منع فرماتے تھے۔ اس کی سند میں ابن لھیعہ راوی ہیں جو ثقہ نہیں بلکہ ضعیف ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۸) عنوان باب میں عطاء بن ابی رباح کے قول کا حوالہ اسی مسئلہ سے متعلق ہے جس کے بارے میں ابن ابی شیبہ نے ایک روایت نقل کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں : لَا بَأْسَ بِبَيْعِ مَنْ يُزِيدُ، كَذَلِكَ كَانَتْ تُبَاعُ الأَحْمَاسُ ۔ مصنف ابن ابي شيبه، كتاب البيوع والأقضية، باب في بيع من يزيد) یعنی مزایده ( نیلامی) میں کوئی حرج نہیں ۔ اموال غنیمت اسی طرح بیچے جاتے تھے۔ ترمذی نے حضرت انس سے اس بارے میں ایک روایت نقل کر کے لکھا ہے کہ اسی پر عمل رہا ہے۔ بعض فقہاء غنائم اور اموال ورثہ دونوں کی بیع بذریعہ نیلامی میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ (ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء في بيع من يزيد ) ابن عربی کا قول ہے کہ اس بارے میں اموال غنیمت کی کوئی تخصیص نہیں بلکہ عام اجازت ہے مگر امام اوزاعی اور اسحق بن راہویہ نے اموال غیر ق بن راہویہ نے اموال غنیمت و میراث میں سے بیع بالمزایدہ کو خصوص کیا ہے مگر ابراہیم نخعی کے نزدیک ایسی بیچ مکروہ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۸) دار قطنی نے بھی اس بارے میں ابن لھیعہ کی سند سے حضرت ابن عمر کی ایک روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ