صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 116 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 116

صحيح البخاری جلدم 117 ۳۴- كتاب البيوع ٢١٤٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۲۱۴۰ علی بن عبد اللہ مدینی ) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ که سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ زہری نے ہم سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے بیان کیا۔انہوں نے سعید بن مسیب سے اور رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبِيْعَ حَاضِرٌ فرمایا ہے کہ شہری غیر شہری کے لئے بیع کرے، اور تم لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ ھوکہ دینے کے لئے آپس میں قیمت نہ بڑھاؤ، اور عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، اور أَخِيْهِ وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ دے، اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق طلب نہ کرے، اس نیت سے لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا۔کہ اُس کے برتن میں جو کچھ ہے وہ خود انڈیل لے۔اطرافه: ٢١٤٨، ٢١٥٠، ٢١٥١، ٢١٦٠، ٢١٦٢، ۲۷۲۳، ۲۷۲۷، ٥١٤٤، ٥١٥٢، ٦٦٠١۔تشریح : لَا يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ : مسئلہ معنونہ کے بارے میں امام مسلم نے بسند حضرت عبد اللہ بن عمر نافع کی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: لا تبع الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ اَخِيْهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ إِلَّا أَنْ يُأْذَنَ لَهُ۔(مسلم، كتاب النكاح، باب تحريم الخطبة على خطبة أخيه حتى يأذن أو يترك) کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور نہ پیغام نکاح پر پیغام نکاح دے، سوائے اس کے کہ وہ اسے اجازت دے۔اس استثناء کا تعلق ہر قسم کے عقد بیع ہو یا نکاح وغیرہ) سے ہے۔بعض فقہاء نے إِلَّا أَن يُأْذَنَ کے جملہ استثنائیہ کو صرف قریب کے منتقلی منہ یعنی عقد نکاح سے مخصوص کیا ہے۔اس لئے عنوانِ باب میں اس حکم کو عام رکھ کر حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ او يترك سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس حکم کا اطلاق ہر قسم کے معاہدہ پر ہے، صرف عقد نکاح سے مخصوص نہیں اور اس امر کی تائید میں زیر باب دو روایتیں نقل کی گئی ہیں۔وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْم أَخِيهِ : صحیح مسلم کے الفاظ بیچ پر بیچ کرنے کے بارے میں یہ ہیں: لَا يَسمِ الْمُسْلِمُ عَلَى سَوْمٍ أَخِيهِ۔(مسلم، كتاب البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع أخيه) یعنی مسلمان اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔جمہور کے نزدیک مسلم اور غیر مسلم دونوں اس حکم میں شامل ہیں۔امام ابن حجر کے نزدیک عنوانِ باب میں جہاں محولہ بالا روایت کے الفاظ کی صحت مد نظر ہے، وہاں حضرت ابو ہریرہ کی ایک دوسری روایت کی طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے جو کتاب الشروط میں منقول ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: أَنْ يُسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْم أَخِيهِ۔(بخارى كتاب الشروط، باب اا، روایت نمبر ۲۷۲۷) نسائی نے