صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 115
صحيح البخاری جلدم ۱۱۵ ۳۴- كتاب البيوع قول واقرار سے بیع مکمل ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی خرید کردہ اُونٹ انہی کو ہبہ کر دیا تھا اور آپ کا یہ تصرف بتاتا ہے کہ قبضہ دو قسم کا ہوتا ہے؛ ایک جسمانی، دوسرا معنوی۔ایک دفعہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے فتوی پوچھا گیا کہ کوئی شخص اناج خرید کر اُس کے اُٹھوانے کے لئے مزدور لے جائے مگر واپسی پر دیکھے کہ وہ جل چکا ہے تو انہوں نے فتوی دیا کہ بائع اس کا ذمہ وار نہیں۔بیچ ہو چکی ، قبضہ میں لینا اور محفوظ رکھنا مشتری کی ذمہ داری ہے نہ بائع کی۔بعض فقہاء نے یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ بائع نے قیمت وصول نہیں کی اور اس وجہ سے خرید کردہ شئے مشتری کے حوالے نہیں کی اور اگر ایسی حالت میں بائع کے پاس ضائع ہو جائے تو اس کا کون ذمہ وار ہے؟ ایسی بیج چونکہ نا تمام ہے۔اس لئے ان کا یہی فتویٰ ہے کہ اس کا بائع ذمہ دار ہے۔(فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۴۴۵) غرض صحت بیچ کے لئے قبضہ ضروری ہے۔جس سے خرید کردہ شئے میں مشتری کو تصرف کرنے کا حق حاصل ہوگا۔امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے اس مسئلہ میں قابل فروخت اشیاء کی نوعیت مختلف ہونے کی وجہ سے ان میں فرق کیا ہے۔مثلاً اگر کپڑا ضائع ہو گیا تو ان کے نزدیک بائع ذمہ وار ہے اور اگر جانور یا جائیداد ضائع ہو جائے تو مشتری۔(عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۲۵۵) اس قسم کے فقیہانہ اختلاف کا حل اس باب میں مدنظر ہے۔جن کا اُصولی طور پر یہ جواب دیا ہے کہ عقد بیچ کی صحت قول واقرار اور قیمت کی ادائیگی پر تحقیق ہو جاتی ہے۔قبضہ کی نوعیت اور صورت مختلف ہوگی اور اس کے مطابق فیصلہ ہوگا۔بَاب ٥٨ : لَا يَضِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ وَلَا يَسْوْمُ عَلَى سَوْمٍ أَخِيْهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ أَوْ يَتْرُكَ اپنے بھائی کی بھی پر بھی نہ کرے اور نہ اپنے بھائی کے نرخ پر نرخ پیش کرے تا وقتیکہ وہ اسے اجازت دے دے یا چھوڑ دے ٢۱۳۹ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ قَالَ :۲۱۳۹: اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا: مالک نے حَدَّثَنِي مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعُ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے عُمَرَ رَضِيَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ۔اطرافه: ٢١٦٥، ٥١٤٢۔بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے۔