صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 114
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۱۴ ۳۴- كتاب البيوع الْخُرُوجِ قَالَ الصُّحْبَةَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مکہ سے چلے جانے کا حکم ہو چکا ہے؟ تو انہوں نے کہا: قَالَ الصُّحْبَةَ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ یا رسول اللہ ! میں بھی آپ کے ساتھ ہی چلوں گا۔فرمایا: عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوج ہاں۔آپ کو بھی ساتھ ہی چلنا ہوگا۔حضرت ابو بکر نے فَخُذْ إِحْدَاهُمَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالقَمَنِ۔کہا: یا رسول اللہ ! میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں، میں نے ان دونوں کو اسی سفر کے لئے تیار کیا ہے۔آپ ان میں سے ایک لے لیں فرمایا میں نے قیمتاً اسے لے لیا ہے۔اطرافه ٤٧٦ ٢٢٦٣، ٢٢٦٤، ۲۲۹٧، ۳۹۰۵، ٤۰۹۳، 5807، 6079۔تشریح : إِذَا اشْتَرَى مَتَاعًا أَوْ دَآبَةً فَوَضَعَهُ عِندَ الْبَائِع : عنوان باب میں حضرت ابن عمر کے قول سے قبضہ بصورت نقل مکانی کی حکمت واضح کی گئی ہے کہ اگر مشتری خرید کردہ شئے دوسری جگہ نہ لے جائے اور وہ جہاں خرید کی گئی ہے، ضائع ہو جائے تو اس نقصان کا ذمہ وار بائع نہیں ہوگا۔ان کا محولہ بالا قول دار قطنی اور طحاوی نے نقل کیا ہے اور لفظ مجموعا بطور وضاحت بڑھایا گیا ہے۔یعنی خرید کردہ شئے اگر بائع کے پاس رہے جبکہ وہ فروخت ہو چکی ہو اور وہ دوسری جگہ نہ لے جائی جائے تو پھر اس میں نقصان کا احتمال ہے۔امام مالک نے اس مسئلہ میں فروتنی اشیاء کی اقسام سے متعلق فرق ملحوظ رکھا ہے۔مثلاً کپڑا اور اناج اگر حاصل کرنے سے قبل ضائع ہو جائیں تو بائع ذمہ وار ہے۔اور اگر غلام لونڈی یا چوپایہ مرجائے، یا خرید کردہ جائیداد ضائع ہو جائے تو مشتری ذمہ وار ہے۔(عمدۃ القاری جزءا ا صفحه ۳۵۵) گو یہ اختلاف بھی زیر باب مدنظر ہو۔جیسا کہ امام ابن حجر اور علامہ عینی نے ذکر کیا ہے۔مگر دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی علت غائی اِس امر میں واضح ہوتی ہے کہ خرید کردہ اشیاء سے متعلقہ تنازعات کا سد باب ہو جاتا ہے، اگر قبضہ پوری صورت میں متحقق ہو اور اپنی جگہ پر لا کر خرید کردہ سامان محفوظ کر لیا جائے۔روایت زیر باب کے بارے میں بعض شارحین نے یہ سوال بھی اُٹھایا ہے کہ اس کا تعلق مسئلہ معنونہ سے بظاہر معلوم نہیں ہوتا۔امام ابن حجر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُونٹ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خرید کر اپنی مرضی سے انہی کے پاس رہنے دیا۔(فتح الباری جز به صفحه ۴۴۴) فَوَضَعَهُ عِندَ الْبَائِعِ اَوْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ : اس فقرہ سے باب کا موضوع واضح ہو جاتا ہے اور عنوان کا دوسرا حصہ اَو مَاتَ قَبلَ اَن يُقبَضَ یہ الگ ہے اور جملہ استفہامیہ ہے۔یعنی اگر وہ مر جائے تو کیا بی صحیح قرار پائے گی اور اس کا ذمہ وار بائع یا مشتری میں سے کون ہوگا ؟ اس کا جواب حضرت ابن عمر کے محولہ بالا قول سے دیا گیا ہے۔اور حضرت ابن عمر کا مشار الیہ قول اس روایت کے خلاف نہیں جو باب ۴۷ میں منقول ہے۔جس میں یہ ذکر ہے کہ زبانی حمد (سنن الدارقطنی، کتاب البیوع، روایت نمبر ۲۱۵، جز ۳۶ صفه ۵۴،۵۳) (شرح معاني الآثار للطحاوى، كتاب البيوع، باب خيار البيعين حتى يتفرقا، جزء ۲ صفحه ۱۶)