صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 112
صحيح البخاری جلدم ۱۱۲ ۳۴- كتاب البيوع تشریح : مَنْ رَّأَى إِذَا اشْتَرَى طَعَامًا جِزَافًا أَنْ لَّا يَبِيْعَهُ حَتَّىٰ يُؤْوِيَهُ إِلَى رَحْلِهِ: امام مالک نے مکیل (وزن شده یا قابل وزن ) اور جُزاف (بغیر وزن کئے اشیاء) ان دونوں کی بیچ میں فرق ملحوظ رکھا ہے کہ پہلی قسم بغیر نقل مکانی کے بیچنی ممنوع ہے اور دوسری اپنی جگہ پر بیچی جاسکتی ہے۔اسی کے مطابق امام اوزاعی اور اسحاق بن راہویہ کا فتویٰ ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ماپا تو لا سامان پورا کا پورا حاصل کر کے قبضہ میں لانے کے بعد بیچا جا سکتا ہے، اُسی جگہ جہاں خریدا گیا ہو یا دوسری جگہ جہاں منتقل کیا گیا ہو۔اسی پر بے ماپے تو لے سامان کا قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس کا قبضہ صرف دستبرداری سے ہی متحقق ہوتا ہے اور وہ بغیر نقل مکانی کے بیچا جاسکتا ہے۔ان کے نزدیک بیچ کے لئے قبضہ شرط ہے جو مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں موجود ہے لیکن اس رائے کے خلاف جمہور کا یہ مذہب ہے کہ قبضہ صحیح معنوں میں اسی وقت متحقق ہوگا، جب ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جائے۔اس نقل مکانی کے بعد ہی مشتری بیچنے کا مجاز ہوگا۔خواہ وزن شدہ ہو یا غیر وزن شدہ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ حدیث میں بغیر نقل مکانی بیچ کرنا صریح ممنوع ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۴۴۳) اور بالعموم ایسا ہی ہوتا ہے کہ منڈیوں سے خرید کردہ سامان اپنے اپنے ٹھکانوں پر لے جایا جاتا ہے اور عند الضرورت نرخ کے مطابق اس کا نکاس ہوتا ہے۔یہ مذکورہ بالا فقہی اختلاف ہے جو اس باب میں حل کیا گیا ہے۔وَالْآدَبُ فِي ذَلِكَ عنوانِ باب میں فقره وَالأَدَبُ فِی ذَلِکَ سے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر بیع کی غرض سے قبضہ بصورت استیفاء نہیں اور نقل مکانی کی شرط نہیں تو سزا کیوں۔ادب کے معنی تادیب و تعزیر کے ہیں۔( فتح الباری جزء ۲ صفحه ۴۴۳) صحیح مسلم میں بھی حضرت عبداللہ بن عمر کی مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے ان الفاظ میں مرفوعاً نقل کی گئی ہے : كُنَّا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ ، نَبْتَاعُ الطَّعَامَ فَيَبْعَثُ عَلَيْنَا مَنْ يَّأْمُرُنَا بِالْتِقَالِهِ مِنَ الْمَكَانِ صنى الله الَّذِي ابْتَعْنَاهُ فِيهِ إِلَى مَكَانِ سِوَاهُ قَبْلَ اَنْ نَّبِيِّعَهُ۔(مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض) یعنی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غلہ خریدا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایسا شخص بھیجتے جو ہمیں حکم دیا کرتا کہ ہم نے غلہ کو جہاں سے خریدا ہے، وہاں سے کسی دوسری جگہ لے جائیں اور پھر فروخت کریں۔اس روایت کے بارہ میں امام احمد بن حنبل" کے الفاظ یہ ہیں: مَنِ اشْتَرَى طَعَامًا بِكَيْلٍ أَوْ وَزْنٍ فَلَا يَبِيَّعُهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ۔(مسند احمد بن حنبل، جزء ۲ صفحه) یعنی جو شخص غلہ خریدے، ماپ کر یا وزن کر کے تو وہ جب تک قبضہ میں نہ لے لے، اسے نہ بیچے۔اصحاب السنن سے بھی اسی کے ہم معنی روایات منقول ہیں جی یہ تواتر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اس لئے بغیر معین مقدار اور پورے طور پر قبضہ میں لانے کے بیچنا منع ہے اور مکمل قبضہ نقل مکانی سے ہی حاصل ہوسکتا ہے اور یہ بھی جائز نہیں کہ بائع کا پہلا ماپ تول ہی دوسری جگہ بیچنے کے لئے کافی سمجھا جائے۔بلکہ مشتری اگر بیچتا ہے تو اُسے دوبارہ ماپ تول کر بیچنا چاہیے تا اگر خرید کر وہ سامان میں کچھ وزن کی کمی ہو تو اس کمی کا وہ خود ذمہ دار ہے۔دوسرے کو کیوں نقصان پہنچائے۔(نسائی، کتاب البيوع، باب النهي عن بيع ما اشترى من الطعام بكيل حتى يستوفي) (ابوداؤد، كتاب البيوع، باب فى بيع الطعام قبل أن يستوفي)