صحیح بخاری (جلد چہارم)

Page 111 of 795

صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 111

صحيح البخاري - جلد ۴ 世 ۳۴- كتاب البيوع وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ۔(مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض) کہ مبادلہ کی رو سے ہر شئے بمنزلہ خوردنی اشیاء کے ہے۔یہ فقہی استنباط حضرت ابن عباس کا اپنا ہے۔زَادَ إِسْمَاعِيلُ : حدیث ( نمبر ۲۱۳۶) کے آخر میں زَادَ إِسْمَاعِيلُ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبعُهُ حَتَّى يَقْبِضہ کے جو الفاظ آتے ہیں۔اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اسماعیل بن ابی اولیس نے اسی سند سے روایت ۲۱۳۶ مذکورہ بالا الفاظ میں امام مالک سے نقل کی ہے۔لفظ استیفاء اور قبض میں یہ فرق ہے کہ بائع غلہ ماپ تول کو پورا کر دیتا ہے مگر بوجہ عدم ادائیگی قیمت غلے کو اپنی دکان پر ہی رکھتا ہے۔یہ صورت استیفاء کی ہے اور قبضہ کی صورت تب ہوگی جب مشتری اُسے اپنی جگہ لے آتا ہے۔(فتح الباری جز به صفحه ۴۴۳۴۴۲) عبد اللہ بن مسلمہ کی روایت میں حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ اور اس میں حَتَّى يَقْبِضَہ ہے۔گویا مفہوم کے اعتبار سے اسماعیل کی روایت کے الفاظ میں معنا زیادتی ہے۔اس زیادتی کی طرف امام بخاری نے زادَ إِسْمَاعِيلُ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔یہ روایت ، باب ۵ روایت نمبر ۲۱۲۶ میں بھی گزر چکی ہے۔اگلے باب میں بھی اس امر کی صراحت کی گئی ہے۔بَاب ٥٦ : مَنْ رَأَى إِذَا اشْتَرَى طَعَامًا جِزَافًا أَنْ لَّا يَبَيْعَهُ حَتَّى يُؤويَهُ إِلَى رَحْلِهِ وَالْأَدَبُ فِي ذَلِكَ جس کی سیہ رائے ہو کہ جب کوئی ما پے تولے بغیر اناج خریدے تو وہ جب تک اُسے قبضے میں نہ کرلے، نہ بیچے اور اس بارے میں تعزیری کارروائی ۲۱۳۷: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۲۱۳۷: سجی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَقَدْ سالم بن عبداللہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمر رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں میں نے خود دیکھا کہ جو لوگ غلہ اندازے پر خریدتے ، انہیں اس بات پر تنبیہ کی جاتی کہ اسے اس جگہ پر نہ بیچیں، جب تک اسے ٹھکانے پر لا کر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُوْنَ جِزَافًا يَعْنِي الطَّعَامَ يُضْرَبُوْنَ أَنْ يَبِيعُوْهُ فِي مَكَانِهِمْ حَتَّى يُؤْوُوْهُ إِلَى رِحَالِهِمْ۔محفوظ نہ کرلیں۔اطرافه ۲۱۲۳، ۲۱۳۱، ٢١٦٦، ٢١٦٧، ٦٨٥٢۔