صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 110
صحيح البخاری جلدم 11۔۳۴- كتاب البيوع ٢١٣٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۱۳۶: عبداللہ بن مسلمہ قعنبی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اناج خریدے تو وہ اُس وقت تک اُسے نہ بیچے جب تک اُس کو پورے من طور پر نہ لے لے۔اسماعیل نے (اپنی روایت میں یہ ) يَعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ زَادَ إِسْمَاعِيْلُ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ۔بڑھایا ہے: جو غلہ خریدے تو وہ اُسے نہ بیچے، تاوقتیکہ وہ اُس کو اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔اطرافه: ٢١٢٤، ۲۱۲٦، ۲۱۳۳ تشریح : بَيْعُ الطَّعَامِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ وَبَيْعُ مَا لَيْسَ عِندَكَ : عنوانِ باب میں دو مسئلے مذکور ہیں اور دونوں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت سے اخذ کئے گئے ہیں جو غلہ جات کی بیچ کے بارہ میں آپ نے فرمائی کہ بغیر قبضہ حاصل کئے اُن کی خرید و فروخت نہ کی جائے۔چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے فتویٰ کا حوالہ اسی غرض سے دیا ہے کہ اس کا اطلاق ہر قابل فروخت شے پر ہے۔اصحاب سنن نے حضرت حکیم بن حزام کی روایت اس بارہ میں ان الفاظ سے نقل کی ہے کہ ان کے دریافت کرنے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تبع مَا لَيْسَ عِندَكَ یعنی جو چیز تمہارے پاس نہیں، اسے نہ پیچو۔انہوں نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص مجھ سے ایسی شے خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہوتی تو کیا بازار سے خرید کر میں اُس کے پاس بیچ سکتا ہوں؟ آپ نے اس سے منع فرمایا کیونکہ واسطه در واسطہ سے گراں قیمت ہوگی اور اسلام نے ایسے واسطوں کو ممکن حد تک کم کیا ہے تا کہ اشیاء کے نرخ میں زیادتی نہ ہو۔قبضہ کی تعریف میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔امام شافعی نے قبضہ کی تین قسمیں بیان کی ہیں۔ایک جو ہاتھوں ہاتھ لی اور دی جاسکتی ہے۔ایسی اشیاء کا بالفعل مبادلہ ضروری ہے اور قبضہ میں آنے پر دوسری جگہ فروخت کی جاسکتی ہے۔دوسری قسم غیر منقولہ اشیاء کا قبضہ جیسے جائداد بصورت مکان، زمین اور درخت، پھل وغیرہ تو ایسی اشیاء کا قبضہ دوسرے کے حق میں دستبرداری سے متصور ہوگا۔تیسری قسم اشیاء منقولہ یعنی غلہ جات اور غلام، لونڈی، مویشی وغیرہ ان کا قبضہ نقل مکانی سے متصور ہوگا۔(فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۴۴۲) غرض قبضہ کی جو بھی صورت ہو، اسی صورت میں قبضہ حاصل کرنے کے بعد ان کی بیع ہوسکتی ہے۔وَلَا أَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا مِثْلَهُ : صحیح مسلم میں جو روایت طاؤس سے منقول ہے، اس کے یہ الفاظ ہیں: (ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء في كراهية بيع ماليس عندک (نسائی، کتاب البیوع، باب بيع ماليس عند البائع) (ابوداؤد، کتاب البیوع، باب فی الرجل يبيع ماليس عنده) (ابن ماجه، كتاب التجارات، باب النهي عن بيع ماليس عندك)