صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 107
صحيح البخاری جلد ۴ ۱۰۷ ۳۴- كتاب البيوع إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيْرُ بِالشَّعِيْرِ رِبًا مبادلہ بھی سود ہے مگر دست بدست ۔ اور کھجور کا کھجور إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ۔ اطرافه: ۲۱۷۰، ٢١٧٤۔ سے مبادلہ بھی سود ہے مگر دست بدست ۔ اور جو کا جو سے مبادلہ بھی سود ہے مگر دست بدست ۔ تشريح : مَا يُذْكَرُ فِي بَيْعِ الطَّعَامِ وَالْحُكْرَةِ: حُكَرَة اور اختیار کے ملتے ہیں نا وغیرہ اشیاء فروختنی روک رکھنا اور انتظار کرنا کہ نرخ چڑھنے ؟ ڑھنے پر بیچی جائیں ۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۴۴۰،۴۳۹) یہ طریق سبب ہوتا ہے قحط تنگی اور بھاؤ بڑھ جانے کا۔ اس لئے شریعت اسلامی نے اسے ممنوع قرار دیا ہے۔ حکومتیں بھی اس قسم کی ذخیرہ اندوزی کو قابل سزا جرم قرار دیتی ہے۔ احتکار شرعی غلے کو محض گھر لے جا کر محفوظ رکھنا نہیں بلکہ احتکار یہ ہے کہ غلہ اپنی ضرورت سے زیادہ ہونے پر بھی اس لئے حاجت مندوں کو نہ دیا جائے کہ نرخ زیادہ ہو جائے تو فروخت کیا جائے ۔ امام احمد بن حنبل کے نزدیک ممانعت احتکار کا تعلق صرف اشیائے خوردنی سے ہے۔ زیر باب کوئی روایت ایسی نہیں ۔ احمد جس میں اس تخصیص کی صراحت ہو اور شارحین کو اس وجہ سے مندرجہ احادیث کا تعلق عنوان باب سے سمجھنے میں مشکل پیش آئی ہے۔ اسماعیلی کا خیال ہے کہ امام بخاری کے نزدیک صحیح مسلم والی روایت جو حضرت معمر بن عبداللہ نے مرفوعاً نقل کی ہے، وہ ثابت نہیں۔ اس لئے انہوں نے استنباط سے کام لیا ہے۔ ( فتح الباری جزءیہ صفحہ ۴۳۹ ، ۴۴۰) حضرت عمر والی حدیث کے یہ الفاظ ہیں : لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِى۔ (مسلم، كتاب المساقاة، باب تحريم الاحتكار في الأقوات) خطا كار ہی احتکار کرتا ہے۔ یہ حدیث ابن ماجہ نے بھی مرفوعا نقل کی ہے۔ یہ روایت حضرت عمرؓ سے مروی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامًا ضَرَبَهُ اللهُ بِالْجَذَامِ وَالْإِفْلَاسِ۔ (ابن ماجه، كتاب التجارات، باب الحكرة والجلب) جس نے مسلمانوں سے اناج کی فروختنی اشیاء روک رکھیں ، اللہ اسے جذام اور افلاس میں مبتلا کرے گا۔ یعنی ان سے وہ سلوک کرے گا جو جذامیوں اور کوڑھیوں سے ہوتا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے : الْجَالِبُ مَرْزُوقَ وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونَ۔ (ابن ماجه، كتاب التجارات، باب الحكرة والجلب) یعنی منڈی میں سامان لانے والے کو رزق دیا جائے گا اور ذخیرہ اندوزی کرنے والا ملعون ہو گا یعنی راندۂ رحمت الہی۔ اور امام احمد بن حنبل اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مرفوعاً نقل کیا ہے : ہے : مَنِ احْتَكَرَ طَعَامًا اَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَقَدْ بَرِيَّ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى وَبَرِئَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ۔ (مسند احمد بن حنبل، مسند عبداللہ بن عمر، جزء ۲ صفی ۳۳) (المستدرك على الصحيحين، كتاب البيوع، باب لا يحتكر الا خاطئ) یعنی جس نے چالیس رات اجناس خوردنی روکے رکھیں ۔ اللہ اس سے بیزار ہوا اور وہ اللہ سے بیزار کہ اُس نے اپنا رزاق اللہ تعالیٰ کو نہیں یقین کیا بلکہ لوگوں کو محروم رکھنے میں اپنا ذریعہ کسب معاش سمجھا۔ اسی طرح حاکم نے حضرت ابو ہریرہ سے مرفوعاً نقل سے مرفوعاً نقل کیا ہے : مَنِ احْتَكَرَ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَالِي بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِى۔ (المستدرك على الصحيحين، كتاب البيوع، باب لا يحتكر الا خاطئ) یعنی وہ شخص جس نے فروختنی اشیاء روک رکھیں اس نیت سے کہ مسلمانوں کو مہنگی دی جائیں گنہگار ہے۔ ان روایات